• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    آیت اللہ برقعی کون تھے؟




    برقعی بر ایک نظر
    ایک معاصر شیعہ بزرگ مجتھد تھے۔
    جو تقریبا نوے سال تک زندہ رہے۔
    ببیسویں صدی عیسوی کے نامور شیعہ علماء نے آپ کے اجتہاد و نبوغ کی گواہی دی۔
    حوزہ علمیہ میں آیت اللہ خمینی کے ہم جماعت تھے۔
    فدائیان اسلام نامی تنظیم کے بانیوں(روحانی باپ) میں سے تھے۔
     ایسے وقت میں ایران کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے اور سیاست مین شامل ہوئے جب اکثر دینی لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے۔
    اور پھر مسجد میں درس و تدریس اور تالیف ،دیگر علماء سے  مناظرہ میں مشغول رہے۔اور وہیں سے آپ نے دین میں اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔
    لوگوں کی بیداری اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لیے تقریبا 77 کتابیں لکھیں۔
    تقریبا دو سو کتب و فتاوے اور رسائل جاری کیے۔
     امت مسلمہ کی اخوت و یگانگت کے لیے ایک رسالہ مجلہ حیات مسلمین جاری کیا اور جمعیت مسلم آزاد کے نام سے آیت اللہ راہنما کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی جو کشمیر،فلسطین اور دیگر مسلمانوں کی جد و جہد کی حمایت کرتی تھی۔
     شاہ ایران کے زمانے میں خرافات و فرقہ پرستی کوترک کرنے کی دعوت کی وجہ سے اذیتیں اور آزار برداشت کیے اور انقلاب ایران کے بعد ان اذیتوں اور تکالیف میں مزید شدت آئی۔
    انقلاب ایران کے بعد اور شاہ کے زمانے مین متعدد مرتبہ آپ کو قید کیا گیا۔
    انقلاب ایران کے بعد خمینی حکومت و خامنائی دور میں آپ کم از کم 66 مرتبہ جیل گئے اور آخری مرتبہ جب جیل گئے تو ایسا ظلم روا رکھا گیا کہ کہا جاتا ہے اسی صدمے و تکالیف سے ہی آپ جان بحق ہوگئے۔
    دو مرتبہ آپ پر نام نہاد مذہبی لوگوں کی ابھار پر قاتلانہ حملے ہوئے اور اللہ نے دونوں مرتبہ آپ کی حفاظت کی۔
    آپ کے خلاف مولویوں نے تحریک چلائی اور شاہ ایران کے دور مین 6000 درخوستیں آپ کے خلاف سرکار کے پاس گئیں کہ برقعی یہودی ہے۔اور جب برقعی کو جیل لے جایا گیا تو وہاں اہلکار حیران رہ گئے کہ یہ کیسا یہودی ہے کہ ہر سوال کا جواب قرآن سے دیتا ہے۔انہوں نے آپ کو رہا کر دیا۔
    آپ جس مسجد میں 277 سال امام جمعہ و جماعت رہے اس مسجد پر غالی عناصر نے نام نہاد علماء کے ساتھ مل کر قبضہ کیا اور آپ کے گھر پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے آپ کی بیوی بیمار ہوگئیں اور فوت ہوگئیں۔
     آخری وقت میں آپ کے دامادوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا البتہ آپ کی بیٹیوں اور بیٹوں نے آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
    اپنی سوانح حیات یا آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہؒ
     آنے والے زمانے کے مسلمان تاکہ یہ نہ کہیں کہ کیا بیسوین صدی عیسوی میں اور انقلاب ایران کے دور مین کیا ان کے بیچ کوئی دانشمند۔صاحب عقل ایسا موجود نہیں تھا؟؟ اور اگر وجود تھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے خاموشی یا مصلحت کیون اختیار کی؟؟ تاکہ تاریخ گواہ رہے کہ میں نے آواز حق بلند کیا اور اس راہ میں ہر قسم کی تکلیفین برداشت کیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    ادارہ نشر و اشاعت آثار امام برقعی (ممبئی ونگ  انڈیا)

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel