مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ پہلے دور کے مسلمانوں کی طرح خود کو صرف مسلمان کہین اور فرقون خواہ اہلسنت کے چار مذاہب ہون یا جعفری ہر ایک سے خود کو آزاد کرین اور یہ نام نہاد شعار و ناموؐ کو چھوڑ دین،تو اس طرح وحڈت و اتفاق پیدا ہوسکتا ہے اور تفرقہ و پراگندگی ختم ہوسکتی ہے اور مسلمان مضبوط بن سکتے ہیں جیسے اللہ نے سورہ حج میں فرمایا:
هو سماکم المسلمین
اور
إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وأنتم مسلمون
بقرہ 132۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں کسی فرقے کا ذکر نہیں کیا اور اللہ اپنے بندوں کی بہتری کو صاحب المراجعات سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔اسی لیے سورہ مائدہ آیت نمبر 3 میں فرمایا:
اور
إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وأنتم مسلمون
بقرہ 132۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں کسی فرقے کا ذکر نہیں کیا اور اللہ اپنے بندوں کی بہتری کو صاحب المراجعات سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔اسی لیے سورہ مائدہ آیت نمبر 3 میں فرمایا:
رضیت لکم الاسلام دینا
اللہ نے یہ نہیں فرمایا رضیت لکم مذھبا ،اور نہ اہل بیت نے کوئی مذہب(فرقہ) بنایا۔
اللہ نے سورہ یونس میں اپنے پیغمبر ص کی زبان سے فرمایا:
وامرت ان اكون اول المسلمين
اللہ نے سورہ یونس میں اپنے پیغمبر ص کی زبان سے فرمایا:
وامرت ان اكون اول المسلمين
ان تمام کے باوجود اہل بیت سے مسوب 70 سے زیادہ فرقے بن چکے کیا اہل بیت ع نے یہ فرقے بنائے ہیں؟؟؟مالکم کیف تحکمون
آیت اللہ برقعی
No comments:
Post a Comment