دینی تاجروں کے ایجادکردہ دکان "ایام فاطمیہ" پر آیت اللہ برقعی کا مختصر تبصرہ
ـ---------------------------------------------------------------------

"شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں فصل دہم میں جمادالاولی اور جمادالآخرہ میں جو روایات یا اقوال نقل کیے ہیں جیسے زیارات وغیرہ جن کی کوئی سند نہیں۔کہنا چاہیے کہ جو چیز بھی کتاب اللہ اور سنت رسول ص میں نہیں تو اس کو مستحب یا مکروہ کہنا دینی لحاظ سے اس کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ دین میں اپنی مرضی سے ایسا کہیں۔اس فصل میں حضرت فاطمہ ع پر اقامہ ماتم کرنے کا کہا ہے اور یہ ایام فاطمیہ کے وجود میں آنے کے پس پردہ بہت سے وجوہات ہیں جو کہ اصل میں روضہ خوان اور قصیدہ خوانوں کی دکانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے کیونکہ ان کو اپنے مدح یا قصیدے اور جعلی مصائب پڑھنے اور عزاداری و نوھہ خوانی اور سینہ زنی و زنجیر زنی ۔۔۔۔ بار بار کرنے کو ملتا ہے(جس کے عوض بار بار پیسے بھی ملتے ہیں) ،ان کاموں پر لوگ پیسے بہت بہا دیتے ہین ،بہت افسوس کا مقام ہے کہ ایسے اعمال کچھ فرصت طلب بے عقل خرافات پسند لوگوں کی آمدنی کا سبب ہیں کہ وہ مجلس میں شعر پڑھتے ہیں یا نوحہ خوانی کرتے ہیں اور اسی بہانے لوگوں کے پیسے لوٹتے ہیں۔اور غیر معتبر ،غیر صحیح اور من گھڑت روایات یا احادیث کے ذریعے شیعہ و سنی کے درمیان نفرت یا دوریاں پیدا کرتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی اور تفرقہ پہیلاتے ہیں تاکہ استعمار مضبوط ہو جائے۔حالانکہ اسلام میں اور شریعت خاتم المرسلین ص میں کسی شخص کی ولادت پر خوشی اور کسی کی وفات پر ماتم کرنا دین کا حصہ بالکل بھی نہیں اور جیسا کہ پہلے میں نے فصل ماہ ربیع الاول میں ذکر کیا کہ یہ رسومات مسلمانوں نے دیگر مذاہب کی تقلید میں کرتے ہیں۔
ـ---------------------------------------------------------------------

"شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں فصل دہم میں جمادالاولی اور جمادالآخرہ میں جو روایات یا اقوال نقل کیے ہیں جیسے زیارات وغیرہ جن کی کوئی سند نہیں۔کہنا چاہیے کہ جو چیز بھی کتاب اللہ اور سنت رسول ص میں نہیں تو اس کو مستحب یا مکروہ کہنا دینی لحاظ سے اس کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ دین میں اپنی مرضی سے ایسا کہیں۔اس فصل میں حضرت فاطمہ ع پر اقامہ ماتم کرنے کا کہا ہے اور یہ ایام فاطمیہ کے وجود میں آنے کے پس پردہ بہت سے وجوہات ہیں جو کہ اصل میں روضہ خوان اور قصیدہ خوانوں کی دکانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے کیونکہ ان کو اپنے مدح یا قصیدے اور جعلی مصائب پڑھنے اور عزاداری و نوھہ خوانی اور سینہ زنی و زنجیر زنی ۔۔۔۔ بار بار کرنے کو ملتا ہے(جس کے عوض بار بار پیسے بھی ملتے ہیں) ،ان کاموں پر لوگ پیسے بہت بہا دیتے ہین ،بہت افسوس کا مقام ہے کہ ایسے اعمال کچھ فرصت طلب بے عقل خرافات پسند لوگوں کی آمدنی کا سبب ہیں کہ وہ مجلس میں شعر پڑھتے ہیں یا نوحہ خوانی کرتے ہیں اور اسی بہانے لوگوں کے پیسے لوٹتے ہیں۔اور غیر معتبر ،غیر صحیح اور من گھڑت روایات یا احادیث کے ذریعے شیعہ و سنی کے درمیان نفرت یا دوریاں پیدا کرتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی اور تفرقہ پہیلاتے ہیں تاکہ استعمار مضبوط ہو جائے۔حالانکہ اسلام میں اور شریعت خاتم المرسلین ص میں کسی شخص کی ولادت پر خوشی اور کسی کی وفات پر ماتم کرنا دین کا حصہ بالکل بھی نہیں اور جیسا کہ پہلے میں نے فصل ماہ ربیع الاول میں ذکر کیا کہ یہ رسومات مسلمانوں نے دیگر مذاہب کی تقلید میں کرتے ہیں۔
قصیدہ خوان اور روضہ خوان ذاکر چودہ سو سال پہلے کے جھگڑوں کو بہانہ بناتے ہیں اور اس پر تکرار کرتے ہیں (تاکہ یہ کما سکیں) حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
سورہ البقرۃ آیت 134
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
سورہ البقرۃ آیت 134
اور آیت 141 میں فرمایا
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
اگر مسلمان صرف ان دو آیتون پر ہی غور کرتے تو وہ ہرگز اپنا مال ان مجالس عمر کشاں اور عزاداریوں پر خرچ نہ کرتے کیونکہ ان میں خرافات اور من گھڑت باتیں بیان کی جاتی ہیں اور غیر خدا کے بارے میں غلو کرتے ہین اور مجالس زنجیر زنی و۔۔۔۔۔۔کرتے ہیں جو کہ مسلمانوں کے درمیان خرافات اور باہم دوریان پیدا کرتی ہیں بلکہ یہ مسلمان ان کاموں پر خرچ کرنے کی بجائے مدرسہ ،ہسپتال اور جلسات تعلیم قرآن اور عوام کے فائدے کے دیگر کاموں پر خرچ کرتے۔"
آیت اللہ العظمی سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی
کتاب مفاتیح و قرآن صفحہ 421
کتاب مفاتیح و قرآن صفحہ 421
No comments:
Post a Comment