مرحوم آیت اللہ العظمی برقعی نے اپنی آنکھوں سے ایرانی انقلابی حکومت کا مشاہدہ کیا تھا اور اس حکومت کے زیر تسلط آپ بڑھاپے میں بھی کئی بار جیل گئے،اور جیل میں آپ پر اس قدر بدترین تشدد اور ہراساں کیا کہ آپ فرماتے مجھے شاہ ایران کے زمانے میں بھی ایسا ظلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔۔چنانچہ ایرانی حکومت و دستور اور حالات کے متعلق زبان حال سے کہتا ہے


"میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک محفل میں تھا،وہ ایک آگاہ اور نیک پندار دوست تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم اسلام کے متعلق کیا جانتے ہو کیا کہتے ہو؟اس نے کہا اسلام وہ دین ہے جس میں ملائیت نہیں ،ملائیت اور احبار اس دین میں نہیں۔مصطفی مجتہد نہیں تھے امی تھے،اور مرتضی بھی مجتہد نہیں تھے،یہ دونون بیکار شخص نہیں تھے(کہ فارغ بیٹھ کر لوگوں کی کمائی کھائے)بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کر کے کماتے اور کھاتےتھے۔میں نے اس سے پوچھا لوگوں کا رہنما کون ہے(کس کو ہونا چاہیے)؟ اور دین کی حفاظت کون کرے(کس کی ذمہ داری ہے)؟ اس نے جواب دیا،دین کا رہنما قرآں ہے اور دین کی حفاظت ہر کسی پر واجب ہے۔دین میں ہر شخص پر جو دین کا طالب ہے اس پرعلم حاصل کرنا عین واجب ہے۔ھادی دین نےدین فروشی کہاں کی تھی، دین بیچنے والا لوگوں کا لیڈر نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ دین کوئی بیچنے کی چیز تو نہیں کہ اسے بیچا جائے اور اس کی کمائی سے کھائے۔دین کو سیاست میں آنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ کہ اس کو بیچا جائے اور اپنی دکانداری چمکائے۔علی ؑ سے بڑھ کر تو کوئی حکمران نہیں تھا لیکن ان کے نزدیک حکومت کی قیمت ایک جوتی سے بڑھ کر نہیں تھی اور وہ دلون پر حکمرانی کرتے تھے نہ کہ ملکون بلغاریہ،حجاز یا ہلند پر حکومت نہیں کرتا تھا ۔ میں نے اس سے علماء کے کردار کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ لوگوں کے گردن پر سوار (بوجھ) ہے۔اس کا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا ملاؤں کا کام لوگوں کو قتل کرنا ہے۔ان کی تکفیر اور ان کو قید کرنا ہے۔وہ غرور کے نشے مین ہے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا۔ مین نے اس سے پوچھا کہ حزب اللہ کا مطلب کیا ہے؟اس نے جواب دیا اس کا مطلب تاتاریوں کے دور اور قانون کو زندہ کرنا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ مملکت کی حالت کیا ہے،اس نے کہا کہ ایک بیمار کی طرح ہے،جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو۔میں نے اس سے پوچھا کہ انقلاب کے ہم پر کیا اثرات ہیں؟ اس نے کہا ہمارا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ہم اس کی وجہ سے بیدار ہو گئے ہیں۔لوگون نے ملاؤں کو دل سے منتخب کیا تھا اور وہ خیال کر رہے تھے کہ حقیقت میں ان کو آزادی ملے گی۔لیکن وہ گڑھے میں گر گئے اور کنوان میں پڑ گئے۔اور ہماری مشکلات سو گنا بڑھ گئی۔غلطی سے دام میں پھنس گئے لیکن بیداری اور چوکنا ہوگئے اب۔میں نے اس سے پوچھا کہ نجات کب ہوگی؟ اس نے کہا کہ اگر تم اللہ سے دعا تضرع و زاری کرو تو نجات ملے گی اور تمہیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔کہ وہ ہمیں ان مشکلات اور آفات سے نجات دے۔"
آیت اللہ برقعی کی کتاب سوانح ایام
No comments:
Post a Comment