"امام المتقین علی ع نے خلفائے راشدین کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھا،اور نماز جمعہ اور جماعت میں ان خلفا کے ھاں حاضر ھوتے.اور ان کے ساتھ فکری مدد کرتے اور ان کی مشکلات حل کرتے.اور ان کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاھرہ کرتے.حتی کہ آپ ع نے اپنے فرزندوں کے نام بھی ان خلفا کے نام پر رکھے۰. اور ایک بیٹے کا نام عمر بن علی،دوسرے کا عثمان بن علی اور ایک کا نام ابوبکر بن علی ھے.جیسا کہ الارشاد شیخ مفید اورتمام کتب حدیث وتاریخ میں ذکرھے.اپنی بیٹی یعنی ام کلثوم جو کہ حضرت زہرا مرضیہ س کی بیٹی تھی،ان کو خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے عقد میں دیا.اور ان کو شرف دامادی دی.اور عثمان کے محاصرے کے وقت علی ع ان کے گھر ان کیلئے پانی لیکرگئے اور اپنے دونوں فرزندان عزیز امام حسن ع اور امام حسین ع کو ان کی حفاظت پر بھیجا.اور اپنے کلمات میں ان خلفا کو اچھے انداز میں یاد کیا اور ان سےبدگوئی کی نسبت نہیں دی ..(علامہ برقعی نے الغارات ثقفی ج1،الدرجات الرفیعہ شوستری،تاریخ طبری ج 3،نہج البلاغہ خطبہ 228،خطبہ 164، وقعہ صفین لابن مزاحم اور ابن طاؤس کی کتب سے مدح ،تعریف وتمجید خلفائے راشدین بزبان علی ع نقل کئے ھیں،طوالت کی وجہ سے یہاں ذکر نہیں کیا جاتا)."
آیت اللہ برقعی رضوی قمی تھرانی،کتاب شاھراہ اتحاد،مقدمہ.
آیت اللہ برقعی رضوی قمی تھرانی،کتاب شاھراہ اتحاد،مقدمہ.

No comments:
Post a Comment