آیت اللہ برقعی کے ایک عقیدت مند اور عالم دوست کا برقعی کے عقائد کے دفاع میں ایک خط اور گمنام صاحب تحریر کو جواب اور ان پر لگائے الزامات کا رد
جب ایک گمنام،بے نام شخص نے برقعی کے خلاف ایک پمفلٹ شائع کیا تو یہ دیکھ کر " محمد موسوی" جو آیت اللہ العظمی برقعی کے تفسیر ِ قرآن کے درس میں شریک ہوتے تھے ۔انہوں نے اپنے استاد کا دفاع کرتے ہوئے یہ پمفلٹ شائع کیا جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے ۔
بسم الله الرحمن الرحيم
بے نام و نشان اعلامیہ کا جواب
میں نے ایک تحریردیکھی ہے کہ جس میں عالم بزرگوار او ررئیس الموحدين آيت الله العظمیآقای علامہ برقعی پر سراپا بدگوئی اور تہمت لگائے گئے ہیں،لکھنے والے شخص نے فریب دینے اور عوام کو اشتعال دلانے کیلے ایسا کیا ہے۔. جب مملکت نے روکا نہیں ہے،تو ہم نے مجبورا اس کے بعض مطالب کا جواب دیا ہے۔اور باقی امور پر ہم بحث کی دعوت دیتے ہیں۔
خدا نے فرمایا:
ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (نحل آیت نمبر 125)
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔
اور یہ نہیں فرمایا کہ تمت و افترا و فحش اور عوام کو مشتعل کے ذریعے دعوت دو۔
بے نام و نشان! صاحب تحریر کہتا ہے:.
ہم اپنے بزرگوں کو پکارتے ہیں اور یاعلی ؑ،یا حسین ؑ اور یا رسول اللہ ﷺ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے مقرب اور دربار الہی میں قابل عزت بندے ہیں۔
جواب یہ ہے اول تو یہ تمام بزرگ اور اللہ کے مقرب بندے تمہارے پیشوا نہیں ہیں۔ اس لئے کہ وہ غير خدا ک(غیر اللہ )کو کبھی نہیں پکارتے تھے۔ اور يا علی اور يا حسين نہیں کہتے تھے۔بلکہ وہ سب بندے تو موحد اور قرآن کے پیروکار تھے اور قرآن نے بار بار کہا ہے کہ ہرشخص جو غير اللہ کو پکارے وہ مشرک ہے،اس جملے میں فرمایا:
فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (سورہ الجن آیت نمبر 18)
یعنی اللہ تعالی کو پکارتے ہوئے کسی کو مت پکارو۔
اور اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا (سورہ الجن آیت نمبر 20)
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کو پکارتا ہوں اورکسی کو اس کی پکار( دعا )میں شريك نہیں کرتا
اور سوره زمر آيت نمبر 45 میں فرمایا :
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
اور سوره مومن آيت نمبر 12 میں فرمایا::
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ
یہ اس لئے کہ جب تنہا اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو اللہ ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے
. یقینا مشركين یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے ساتھ دوسرے شخص کو بھی پکاریں
اور سوره احقاف آیت نمبر 5 ،6میں فرمایا:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ
وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو،اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے یقینا یہ اولياء(بزرگ) روز قيامت اپنے کوپکارنے والوں کےدشمن بن جائیں گے۔
اس پریشان حال صاحب تحریر سے کہنا چاہیے! اللہ تعالی نے یہ تعلیم نہیں دی کہ میرے مقرب بندوں کو پکارو بلکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ خود مجھے ہی پکارو۔اور فرمایا:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
" اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
(غافر 60)
یہ آیت ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ مدعو غیبی کو پکارنا اور اس سے دعا کرنا عبادت ہے۔
جیسا کہ امام زین العابدین ؑ نے نیز صحیفہ سجادیہ میں دعا نمبر 45 میں دعا کے عبادت ہونے کے ثبوت میں یہی آیت پیش کی ہے۔اسی طرح احادیث میں بھی ذکر ہوا ہے۔
. الدعاء مخ العبادة
اور نیز ایسا بھی آیا ہے:
الدعاء أفضل العبادة
اللہ کے نیک بندوں (مقربان الہی) میں سے کوئی ایک بھی بندہ اللہ تعالی سے بڑھ کر انسان سے نزدیک تر اور اس سے بڑھ کر مہربان تر نہیں ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا کہ :
میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں
لیکن بزرگان دین(جن کو تم پکارتے ہو) وہ تم سے بالکل ہی بے خبر ہیں اور اصل میں(حقیقتا) تمہیں وہ جانتے ہی نہیں،بلکہ روز قیامت یہ بزرگ اللہ کے بندے تم لوگوں سے بیزاری اختیار کریں گے۔
بے نام و نشان صاحب تحریر کہتا ہے:
ہم اللہ کے نیک بندوں کو پکارتے ہیں لیکن ہم ان کو اللہ یا رب یا مستقل ذات سمجھ کر تو نہیں پکارتے( بلکہ ہم ان سے صرف سفارش یا ان کو وسطہ کے طور پر پکارتے ہیں کیونکہ یہ اللہ کے قریب ،مقرب لوگ ہیں)
اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین مکہ بھی اللہ تعالی کو تو مانتے تھے،اور تم جو باتیں کرتے ہو بالکل وہ بھی یہی بات کرتے تھے۔
جیسا کہ سورہ عنکبوت آیت 61میں آیا ہے:
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ
اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے اللہ نے۔
اور وہ لوگ بتوں کو انبیاء و اولیاء اور فرشتوں کے مظاہر سمجھتے تھے،اور اللہ تعالی کا قرب(نزدیک ہونے کی خاطر) ان (مظاہر) کو پکارتے تھے۔
اور جیسا کہ سوره يونس آیت نمبر18 میں ذکر ہوا کہ وہ(مشرکین) کہتے تھے:
وَيَقُولُونَ هَؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش(شفاعت) کرنے والے ہیں
اور یہ کہتے تھے:
مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى
(وہ کہتے ہیں کہ( ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔
(زمر/3).
یہ صاحب تحریر اللہ تعالی سے تو نہیں ڈرتا لیکن دوسرے لوگوں سے ڈرتا ہے تبھی تو اپنا نام نہیں لکھا۔اے بے چارہ شخص،اللہ تعالی نے سوره نحل آيت نمبر 20 میں فرمایا ہے:
وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿٢٠﴾ أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴿٢١﴾
اور اس کے علاوہ جنہیں یہ مشرکین پکارتے ہیں وہ خود ہی مخلوق ہیں اور وہ کسی چیز کو خلق نہیں کرسکتے ہیں ،وہ تو مردہ ہیں ان میں زندگی بھی نہیں ہے اور نہ انہیں یہ خبر ہے کہ مفِدے کب اٹھائے جائیں گے"
یعنی ہر وہ شخص جو خود کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا،خود بھی مخلوق ہے اور وفات پا چکا ہو۔اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی۔اس شخص (بزرگ) کو نہیں پکارنا چاہیے۔اور تمام انبیاء و اولیاء ایسے ہی تھے،وہ خود مخلوق تھے اور خالق نہیں تھے،وہ دنیا سے چلے گئے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ کب اور کس وقت قیامت برپا ہوگی۔ اس کے علاوہ ان اشخاص(ہستیوں) کو پکارنا شرک ہے۔اور قرآن میں یہ تصریح ہے کہ رسول پاک ﷺ وفات پانے والے ہیں،اور وقت بعثت اور قیامت کا علم بھی آپ ﷺ کو نہیں تھا۔
جیسا کہ سوره اعراف آيت نمبر 187 اور دیگر آیات میں فرمایا::
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا(کہ یہ اعلان کرو):
قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۔قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ اللہ (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا
یعنی کہ دو کہ میں تہارے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں۔اور اللہ کے سوا کسی کے ہاں مجھے بھی پناہ حاصل نہیں۔پس ان کو پکارنا جو کسی نفع و نقصان کا خود بھی مالک نہیں،ان کو پکارنا عقلمندی نہیں۔
قرآنی آیات میں صریح طور پر بیان ہے کہ رسالت کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کا کوئی اور ہدف و مقصد نہیں تھا۔
وما محمد الا رسول
اور قرآن کی تصريح ہے کہ نيز رسول اللہ ﷺ کا کام صرف لوگوں تک دین پہنچانا تھا۔اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا ۔
وما علی الرسول الا البلغ
سورہ الاسراء آیت نمبر 56 اور 57 میں فرمایا:
قُلِ ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلاَ يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلاَ تَحْوِيلاً أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے،یہ لوگ جن کو (اللہ کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (اللہ کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
کیا جو لوگ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہیں،اور بے شعور بت تھے۔پس اپنی گمان کے مطابق ان کو مت پکارو۔
اس کے علاوہ، یہ مل کر گانا،رقص کرنا اور یا عباس کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟؟
کیا حضرت عباس ؑ نے تمہیں دیکھا ہے اور تمہیں پہچان لیا ہے اور ان کو تمہارے متعلق خبر ہے؟قرآن کی واضح آیات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زوجہ حضرت عائشہ کی گم ہونے کی خبر نہیں رکھتے تھے اور منافقين مدينہ سے آپ ﷺ بے خبر تھے اور لاعلم تھے،اللہ تعالی نے سوره احقاف آيت نمبر 9 میں آپ ﷺ سے فرمایا:
وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ
اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا)
وہ(رسول ﷺ)ن جن کو اپنے اصحاب کے متعلق علم یا خبر نہ ہوں ، کیا ان کو مشرکین ایران کی خبر ہوگی؟
حضرت علی ؑ نے کب اور کہاں کسی غیر اللہ کو پکارا؟؟
دل اگر خدا شناسي درِ خانه خدا زن
كه علي هميشه ميزد درِ خانه خدا را
اللہ تعالی نے سورہ فاطر آیت نمبر 13 میں فرمایا:
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ
وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (اللہ ) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا
بے نام و نشان اعلامیہ کا جواب
میں نے ایک تحریردیکھی ہے کہ جس میں عالم بزرگوار او ررئیس الموحدين آيت الله العظمیآقای علامہ برقعی پر سراپا بدگوئی اور تہمت لگائے گئے ہیں،لکھنے والے شخص نے فریب دینے اور عوام کو اشتعال دلانے کیلے ایسا کیا ہے۔. جب مملکت نے روکا نہیں ہے،تو ہم نے مجبورا اس کے بعض مطالب کا جواب دیا ہے۔اور باقی امور پر ہم بحث کی دعوت دیتے ہیں۔
خدا نے فرمایا:
ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (نحل آیت نمبر 125)
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔
اور یہ نہیں فرمایا کہ تمت و افترا و فحش اور عوام کو مشتعل کے ذریعے دعوت دو۔
بے نام و نشان! صاحب تحریر کہتا ہے:.
ہم اپنے بزرگوں کو پکارتے ہیں اور یاعلی ؑ،یا حسین ؑ اور یا رسول اللہ ﷺ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے مقرب اور دربار الہی میں قابل عزت بندے ہیں۔
جواب یہ ہے اول تو یہ تمام بزرگ اور اللہ کے مقرب بندے تمہارے پیشوا نہیں ہیں۔ اس لئے کہ وہ غير خدا ک(غیر اللہ )کو کبھی نہیں پکارتے تھے۔ اور يا علی اور يا حسين نہیں کہتے تھے۔بلکہ وہ سب بندے تو موحد اور قرآن کے پیروکار تھے اور قرآن نے بار بار کہا ہے کہ ہرشخص جو غير اللہ کو پکارے وہ مشرک ہے،اس جملے میں فرمایا:
فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (سورہ الجن آیت نمبر 18)
یعنی اللہ تعالی کو پکارتے ہوئے کسی کو مت پکارو۔
اور اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا (سورہ الجن آیت نمبر 20)
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کو پکارتا ہوں اورکسی کو اس کی پکار( دعا )میں شريك نہیں کرتا
اور سوره زمر آيت نمبر 45 میں فرمایا :
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
اور سوره مومن آيت نمبر 12 میں فرمایا::
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ
یہ اس لئے کہ جب تنہا اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو اللہ ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے
. یقینا مشركين یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے ساتھ دوسرے شخص کو بھی پکاریں
اور سوره احقاف آیت نمبر 5 ،6میں فرمایا:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ
وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو،اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے یقینا یہ اولياء(بزرگ) روز قيامت اپنے کوپکارنے والوں کےدشمن بن جائیں گے۔
اس پریشان حال صاحب تحریر سے کہنا چاہیے! اللہ تعالی نے یہ تعلیم نہیں دی کہ میرے مقرب بندوں کو پکارو بلکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ خود مجھے ہی پکارو۔اور فرمایا:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
" اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
(غافر 60)
یہ آیت ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ مدعو غیبی کو پکارنا اور اس سے دعا کرنا عبادت ہے۔
جیسا کہ امام زین العابدین ؑ نے نیز صحیفہ سجادیہ میں دعا نمبر 45 میں دعا کے عبادت ہونے کے ثبوت میں یہی آیت پیش کی ہے۔اسی طرح احادیث میں بھی ذکر ہوا ہے۔
. الدعاء مخ العبادة
اور نیز ایسا بھی آیا ہے:
الدعاء أفضل العبادة
اللہ کے نیک بندوں (مقربان الہی) میں سے کوئی ایک بھی بندہ اللہ تعالی سے بڑھ کر انسان سے نزدیک تر اور اس سے بڑھ کر مہربان تر نہیں ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا کہ :
میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں
لیکن بزرگان دین(جن کو تم پکارتے ہو) وہ تم سے بالکل ہی بے خبر ہیں اور اصل میں(حقیقتا) تمہیں وہ جانتے ہی نہیں،بلکہ روز قیامت یہ بزرگ اللہ کے بندے تم لوگوں سے بیزاری اختیار کریں گے۔
بے نام و نشان صاحب تحریر کہتا ہے:
ہم اللہ کے نیک بندوں کو پکارتے ہیں لیکن ہم ان کو اللہ یا رب یا مستقل ذات سمجھ کر تو نہیں پکارتے( بلکہ ہم ان سے صرف سفارش یا ان کو وسطہ کے طور پر پکارتے ہیں کیونکہ یہ اللہ کے قریب ،مقرب لوگ ہیں)
اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین مکہ بھی اللہ تعالی کو تو مانتے تھے،اور تم جو باتیں کرتے ہو بالکل وہ بھی یہی بات کرتے تھے۔
جیسا کہ سورہ عنکبوت آیت 61میں آیا ہے:
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ
اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے اللہ نے۔
اور وہ لوگ بتوں کو انبیاء و اولیاء اور فرشتوں کے مظاہر سمجھتے تھے،اور اللہ تعالی کا قرب(نزدیک ہونے کی خاطر) ان (مظاہر) کو پکارتے تھے۔
اور جیسا کہ سوره يونس آیت نمبر18 میں ذکر ہوا کہ وہ(مشرکین) کہتے تھے:
وَيَقُولُونَ هَؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش(شفاعت) کرنے والے ہیں
اور یہ کہتے تھے:
مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى
(وہ کہتے ہیں کہ( ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔
(زمر/3).
یہ صاحب تحریر اللہ تعالی سے تو نہیں ڈرتا لیکن دوسرے لوگوں سے ڈرتا ہے تبھی تو اپنا نام نہیں لکھا۔اے بے چارہ شخص،اللہ تعالی نے سوره نحل آيت نمبر 20 میں فرمایا ہے:
وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿٢٠﴾ أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴿٢١﴾
اور اس کے علاوہ جنہیں یہ مشرکین پکارتے ہیں وہ خود ہی مخلوق ہیں اور وہ کسی چیز کو خلق نہیں کرسکتے ہیں ،وہ تو مردہ ہیں ان میں زندگی بھی نہیں ہے اور نہ انہیں یہ خبر ہے کہ مفِدے کب اٹھائے جائیں گے"
یعنی ہر وہ شخص جو خود کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا،خود بھی مخلوق ہے اور وفات پا چکا ہو۔اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی۔اس شخص (بزرگ) کو نہیں پکارنا چاہیے۔اور تمام انبیاء و اولیاء ایسے ہی تھے،وہ خود مخلوق تھے اور خالق نہیں تھے،وہ دنیا سے چلے گئے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ کب اور کس وقت قیامت برپا ہوگی۔ اس کے علاوہ ان اشخاص(ہستیوں) کو پکارنا شرک ہے۔اور قرآن میں یہ تصریح ہے کہ رسول پاک ﷺ وفات پانے والے ہیں،اور وقت بعثت اور قیامت کا علم بھی آپ ﷺ کو نہیں تھا۔
جیسا کہ سوره اعراف آيت نمبر 187 اور دیگر آیات میں فرمایا::
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا(کہ یہ اعلان کرو):
قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۔قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ اللہ (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا
یعنی کہ دو کہ میں تہارے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں۔اور اللہ کے سوا کسی کے ہاں مجھے بھی پناہ حاصل نہیں۔پس ان کو پکارنا جو کسی نفع و نقصان کا خود بھی مالک نہیں،ان کو پکارنا عقلمندی نہیں۔
قرآنی آیات میں صریح طور پر بیان ہے کہ رسالت کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کا کوئی اور ہدف و مقصد نہیں تھا۔
وما محمد الا رسول
اور قرآن کی تصريح ہے کہ نيز رسول اللہ ﷺ کا کام صرف لوگوں تک دین پہنچانا تھا۔اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا ۔
وما علی الرسول الا البلغ
سورہ الاسراء آیت نمبر 56 اور 57 میں فرمایا:
قُلِ ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلاَ يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلاَ تَحْوِيلاً أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے،یہ لوگ جن کو (اللہ کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (اللہ کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
کیا جو لوگ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہیں،اور بے شعور بت تھے۔پس اپنی گمان کے مطابق ان کو مت پکارو۔
اس کے علاوہ، یہ مل کر گانا،رقص کرنا اور یا عباس کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟؟
کیا حضرت عباس ؑ نے تمہیں دیکھا ہے اور تمہیں پہچان لیا ہے اور ان کو تمہارے متعلق خبر ہے؟قرآن کی واضح آیات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زوجہ حضرت عائشہ کی گم ہونے کی خبر نہیں رکھتے تھے اور منافقين مدينہ سے آپ ﷺ بے خبر تھے اور لاعلم تھے،اللہ تعالی نے سوره احقاف آيت نمبر 9 میں آپ ﷺ سے فرمایا:
وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ
اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا)
وہ(رسول ﷺ)ن جن کو اپنے اصحاب کے متعلق علم یا خبر نہ ہوں ، کیا ان کو مشرکین ایران کی خبر ہوگی؟
حضرت علی ؑ نے کب اور کہاں کسی غیر اللہ کو پکارا؟؟
دل اگر خدا شناسي درِ خانه خدا زن
كه علي هميشه ميزد درِ خانه خدا را
اللہ تعالی نے سورہ فاطر آیت نمبر 13 میں فرمایا:
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ
وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (اللہ ) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا
اے بے نام و نشان صاحب تحریر!!اور قرآن سے بے خبر شخص!! اہل کتاب حضرت عیسی ؑ یا حضرت عزیر ؑ جیسے بزرگوں کو پکارتے تھے۔اور اپنا ارباب سمجھتے تھے۔ اللہ تعالی نے سورہ آل عمران آیت 64میں ان سے فرمایا:
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ
کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا خدائی کا درجہ نہ دیں
يعني، آو سب موحدبن جاتے ہیں اور مشرك نہیں بنتے۔ اور حضرات عيسي ،حضرت عزير، اور محمدﷺ کو نہیں پکارتے ۔اور اپنے لیے ان کو ارباب قرار نہیں دیتے۔
اور اسی سورہ کی آیت نمبر 80 میں فرمایا:
وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَئِكَةَ وَالنِّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
وہ یہ حکم بھی نہیں دے سکتا کہ ملائکہ یا انبیائ کو اپنا پروردگار بنالو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جب کہ تم لوگ مسلمان ہو
در اين حال کیا ہم حضرات عباس و سكينه و رقيه کو پکاریں اور ارباب سمجھیں؟!!
یعنی اللہ تعالی نے تو تمہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم ملائکہ اور انبیاء کو اپنا رب بناؤ۔کیا اللہ نے تمہیں کفر کا حکم دیا ہے؟؟کیا ایسی صورت میں ہم حضرت عباس ؑ و سکینہ ؑاور رقیہؑ کو اپنا رب ماننا چاہیے؟؟
اے بے نام و نشان صاھب تحریر!اللہ تعالی نے سورہ مائدہ آیت نمبر 35 میں فرمایا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ
کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا خدائی کا درجہ نہ دیں
يعني، آو سب موحدبن جاتے ہیں اور مشرك نہیں بنتے۔ اور حضرات عيسي ،حضرت عزير، اور محمدﷺ کو نہیں پکارتے ۔اور اپنے لیے ان کو ارباب قرار نہیں دیتے۔
اور اسی سورہ کی آیت نمبر 80 میں فرمایا:
وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَئِكَةَ وَالنِّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
وہ یہ حکم بھی نہیں دے سکتا کہ ملائکہ یا انبیائ کو اپنا پروردگار بنالو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جب کہ تم لوگ مسلمان ہو
در اين حال کیا ہم حضرات عباس و سكينه و رقيه کو پکاریں اور ارباب سمجھیں؟!!
یعنی اللہ تعالی نے تو تمہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم ملائکہ اور انبیاء کو اپنا رب بناؤ۔کیا اللہ نے تمہیں کفر کا حکم دیا ہے؟؟کیا ایسی صورت میں ہم حضرت عباس ؑ و سکینہ ؑاور رقیہؑ کو اپنا رب ماننا چاہیے؟؟
اے بے نام و نشان صاھب تحریر!اللہ تعالی نے سورہ مائدہ آیت نمبر 35 میں فرمایا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
یعنی اے مومنو! اللہ تعالی سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ وہ وسیلہ جس کواللہ تعالی نے تلاش کرنے کا کہا ہےکیا وہ وسیلہ ایمان و عمل ہے؟یا پھر وہ شخص ہے کہ جو دنیا سے چلا گیا ہے ،ہماری دسترس(پہنچ) مین نہیں ہےاور جسے ہم تلاش نہیں کرسکتے۔
مزید یہ کہ اس آیت کے مخاطب مومنین ہیں، اور آئمہ علیہم السلام بھی نیز اس آیت کے مخاطبین ہیں(یعنی ان سے بھی یہی کہا گیا ہے کہ وہ وسیلہ تلاش کریں)۔کیا آئمہ ؑ نے اس آیت پر عمل کیا ہے یا نہیں؟کیا آئمہ ؑ کا وسیلہ ایمان و عمل کے علاوہ کچھ اور تھا؟اصل میں آئمہ ؑ کی روحوں تک ہم نہیں پہنچ سکتے(کہ ان کو تلاش کریں)،یقینا ممکن نہیں کہ ہم عالم برزخ جائیں اور انبیاء و اولیاء کو ڈھونڈیں(تلاش کریں)، وہ وسیلہ اگر ہو تے تو ان کو تکلیف ما لا یطاق ہونا چاہیے۔وہ وسیلہ کہ جس کو ہم تلاش کرسکتے ہیں یا ڈھونڈ سکتے ہیں وہ وسیلہ ایمان و عمل صالح ہے۔حضرت علی ؑ نے نہج البلاگہ خطبہ نمر 109 میں فرمایا:
مزید یہ کہ اس آیت کے مخاطب مومنین ہیں، اور آئمہ علیہم السلام بھی نیز اس آیت کے مخاطبین ہیں(یعنی ان سے بھی یہی کہا گیا ہے کہ وہ وسیلہ تلاش کریں)۔کیا آئمہ ؑ نے اس آیت پر عمل کیا ہے یا نہیں؟کیا آئمہ ؑ کا وسیلہ ایمان و عمل کے علاوہ کچھ اور تھا؟اصل میں آئمہ ؑ کی روحوں تک ہم نہیں پہنچ سکتے(کہ ان کو تلاش کریں)،یقینا ممکن نہیں کہ ہم عالم برزخ جائیں اور انبیاء و اولیاء کو ڈھونڈیں(تلاش کریں)، وہ وسیلہ اگر ہو تے تو ان کو تکلیف ما لا یطاق ہونا چاہیے۔وہ وسیلہ کہ جس کو ہم تلاش کرسکتے ہیں یا ڈھونڈ سکتے ہیں وہ وسیلہ ایمان و عمل صالح ہے۔حضرت علی ؑ نے نہج البلاگہ خطبہ نمر 109 میں فرمایا:
إن أفضل ما توسل به المتوسلون: الإيمان بالله و برسوله والجهاد في سبيل الله.... و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
. إلهي وسيلتي إليك إيماني بك
اور اس کے علاوہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ وسیلہ کو پکارو(ادعوا الوسیلہ) بلکہ فرمایا "ابتغو" پس وسیلہ حاصل کرنا اور ڈھونڈنا ہے،اسی لیے یہ نہیں فرمایا
"ادعوا الوسيلة"
غرض افکار و اعمال صالحہ وسیلہ ہیں۔جو انسان کی روح کو خالص بناتی ہے اور مقام قرب خدا حاصل کرتا ہے۔
اس کے علاوہ سورہ اسراء آیت نمبر 56 جس کو اوپر ذکر کیا ہے اس آیت کی تفسیر ہے۔اور غلط استنباطات کو واضح طور پر رد کرتی ہے۔
اے بے نام و نشان صاحب تحریر! اگر کلام خدا کو نہیں سمجھا ہے یا اس سے منہ موڑتے ہو تو امام حسین ؑ کے نائب خاص یعنی مسلم بن عقیل کو ہی مان لو کہ جب ان کو دارالامارہ میں شہید کرنے کے لیے لے گئے اور آخری وصیت کی کہ امام حسین ؑ کو ایک خط لکھیں کہ کوفہ کے نزدیک مت آئیں۔کیونکہ امام ؑ کو کوفہ کی خبر نہیں۔
یقینا امام حسین ؑ کا نائب خاص تو کہتا ہے کہ امام حسین ؑ تو کوفہ سے بے خبر یا لاعلم ہیں،لیکن مشرکین ایران کہتے ہیں کہ ان کو پکارنا چاہیے اور یاحسین ؑ کہنا (پکارنا)چاہیے کیونکہ ان کو ہماری خبر ہے یا ہمارے متعلق وہ جانتے ہیں۔
حضرت علی ؑ نے حضرت فاطمہ کی قبر پر شکایت کرتے ہوئے فرمایا
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
. إلهي وسيلتي إليك إيماني بك
اور اس کے علاوہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ وسیلہ کو پکارو(ادعوا الوسیلہ) بلکہ فرمایا "ابتغو" پس وسیلہ حاصل کرنا اور ڈھونڈنا ہے،اسی لیے یہ نہیں فرمایا
"ادعوا الوسيلة"
غرض افکار و اعمال صالحہ وسیلہ ہیں۔جو انسان کی روح کو خالص بناتی ہے اور مقام قرب خدا حاصل کرتا ہے۔
اس کے علاوہ سورہ اسراء آیت نمبر 56 جس کو اوپر ذکر کیا ہے اس آیت کی تفسیر ہے۔اور غلط استنباطات کو واضح طور پر رد کرتی ہے۔
اے بے نام و نشان صاحب تحریر! اگر کلام خدا کو نہیں سمجھا ہے یا اس سے منہ موڑتے ہو تو امام حسین ؑ کے نائب خاص یعنی مسلم بن عقیل کو ہی مان لو کہ جب ان کو دارالامارہ میں شہید کرنے کے لیے لے گئے اور آخری وصیت کی کہ امام حسین ؑ کو ایک خط لکھیں کہ کوفہ کے نزدیک مت آئیں۔کیونکہ امام ؑ کو کوفہ کی خبر نہیں۔
یقینا امام حسین ؑ کا نائب خاص تو کہتا ہے کہ امام حسین ؑ تو کوفہ سے بے خبر یا لاعلم ہیں،لیکن مشرکین ایران کہتے ہیں کہ ان کو پکارنا چاہیے اور یاحسین ؑ کہنا (پکارنا)چاہیے کیونکہ ان کو ہماری خبر ہے یا ہمارے متعلق وہ جانتے ہیں۔
حضرت علی ؑ نے حضرت فاطمہ کی قبر پر شکایت کرتے ہوئے فرمایا
مالي وقفت علي القبور مسلماً قبر الحبيب و لم يرد جوابي
یعنی کیا ہوا کہ میں قبرِ حبیب پر سلام کرتا ہوں اور ان کی طرف سے مجھے جواب نہیں آتا۔کیا انہوں نے مجھے فراموش کیا؟؟ اس کے بعد زبان حال سے فرمایا کی کیسے مجھے میری حبیب جواب دے حالانکہ وہ پتھروں اور مٹی کے نیچے(دفن) ہے۔
حضرت علی ؑ نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 83،110،149 اور 221 میں بار بار فرمایا کہ جو شخص دنیا سے چلا گیا وہ اپنی زیارت کرنے والے کے متعلق علم نہیں رکھتا۔
لا يعرفون من أتاهم و لا يحفلون من بكاهم و لا يجيبون من دعاهم
معلوم ہوا کہ صاحب تحریر نے نہ صرف قرآن کو نہیں مانا بلکہ اس نے قول علی ؑ کو بھی نہیں مانا ہے۔
جابر بن عبدالله روز اربعين کو قبر امام حسين (ع) پر آیا اور 3 مرتبہ سلام كیا اور بولا کیوں آپ اپنے دوست (محب)کو جواب نہیں دیتے ہو؟، اور بعد میں فرمایا کیسے جواب دیں جب كہ ان (امام حسین ؑ)کے سر پہ بدن نہیں،یقینا امام حسین ؑ نے جابر کو توجواب نہیں دیا، لیکن مشركين ايران کو امام حسین ؑ جواب دیتے ہیں!! خدا نے اپنے رسول ﷺ کو سوره فاطر آيت نمبر 22 میں فرمایا:
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاء وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ
یعنی کیا ہوا کہ میں قبرِ حبیب پر سلام کرتا ہوں اور ان کی طرف سے مجھے جواب نہیں آتا۔کیا انہوں نے مجھے فراموش کیا؟؟ اس کے بعد زبان حال سے فرمایا کی کیسے مجھے میری حبیب جواب دے حالانکہ وہ پتھروں اور مٹی کے نیچے(دفن) ہے۔
حضرت علی ؑ نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 83،110،149 اور 221 میں بار بار فرمایا کہ جو شخص دنیا سے چلا گیا وہ اپنی زیارت کرنے والے کے متعلق علم نہیں رکھتا۔
لا يعرفون من أتاهم و لا يحفلون من بكاهم و لا يجيبون من دعاهم
معلوم ہوا کہ صاحب تحریر نے نہ صرف قرآن کو نہیں مانا بلکہ اس نے قول علی ؑ کو بھی نہیں مانا ہے۔
جابر بن عبدالله روز اربعين کو قبر امام حسين (ع) پر آیا اور 3 مرتبہ سلام كیا اور بولا کیوں آپ اپنے دوست (محب)کو جواب نہیں دیتے ہو؟، اور بعد میں فرمایا کیسے جواب دیں جب كہ ان (امام حسین ؑ)کے سر پہ بدن نہیں،یقینا امام حسین ؑ نے جابر کو توجواب نہیں دیا، لیکن مشركين ايران کو امام حسین ؑ جواب دیتے ہیں!! خدا نے اپنے رسول ﷺ کو سوره فاطر آيت نمبر 22 میں فرمایا:
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاء وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ
اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے۔ اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے
یعنی جو شخص دنیا سے عالم برزخ اور قبر میں چلا گیا ہو وہ حتی خاتم انبیاء (محمد ﷺ) کی صدا یا آواز بھی نہیں سن سکتا۔
اے قرآن سے بے خبر صاحب تحریر! اللہ تعالی نے سورہ مائدہ آیات 109 اور آگے فرمایا ہے:
يَوْمَ يَجْمَعُ اللّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ
(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے
یعنی جو شخص دنیا سے عالم برزخ اور قبر میں چلا گیا ہو وہ حتی خاتم انبیاء (محمد ﷺ) کی صدا یا آواز بھی نہیں سن سکتا۔
اے قرآن سے بے خبر صاحب تحریر! اللہ تعالی نے سورہ مائدہ آیات 109 اور آگے فرمایا ہے:
يَوْمَ يَجْمَعُ اللّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ
(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے
انبیاء دنیا سے بے خبر ہیں۔
اور سورہ بقرہ آیت نمبر 259 میں فرمایا ہے کہ حضرت عزیر پیغمر ؑ کو اللہ نے سو سال تک موت دی،اور ان کو اس حالت میں ان کو اپنی جسم و کھانے پینے کی خبر نہیں تھی،اور اپنی وفات کی مدت تک سے بے خبر اور لاعلم تھے۔تو پھر اماموں اور اولیاء کو کیسے دوسرے لوگوں کی خبر یا علم ہو سکتا ہے؟؟
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىَ يُحْيِـي هَـَذِهِ اللّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِئَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى العِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ اللہ اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو اللہ نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ اللہ نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىَ يُحْيِـي هَـَذِهِ اللّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِئَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى العِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ اللہ اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو اللہ نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ اللہ نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
قرآن میں جو دعائیں آئی ہیں وہ لوگوں کو سیدھا اپنے پروردگار کی طرف لے آتی ہیں۔اور ان کے شروع میں ی کلمات "رب"اور "ربنا" ذکر ہوئے ہیں۔
اور سورہ فصلت آیت نمبر 6 میں فرمایا:
أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ
کہ تمہارا معبود اللہ واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو.
یعنی تمہارا پروردگار صرف ایک ہے ،پس سیدھے اسی کی طرف رخ کرو اور کسی دوسرے کو مت پکارو۔پس جو شخص غیراللہ کو مشکلات میں نجات کے لیے پکارتا ہے تو اس نے دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک کیا۔
جیسا کہ سورہ نمل آیت نمبر 62 میں فرمایا:
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِۚ
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں )–
نہیں – ۔ ؟!.
تمہاری حالت یہ ہے کہ آياتِ قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہو، اور زیارت ناموں ،دعا کی کتابوں (کے پیچھے پڑے ہو )اور گنبد و بارگاہوں کو جو کہ غالیوں ،کذابون اور من گھڑت باتیں گھڑنے والوں کے ہاتھوں بنی ہیں ان کی طرف چلتے ہو۔
اور سورہ فصلت آیت نمبر 6 میں فرمایا:
أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ
کہ تمہارا معبود اللہ واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو.
یعنی تمہارا پروردگار صرف ایک ہے ،پس سیدھے اسی کی طرف رخ کرو اور کسی دوسرے کو مت پکارو۔پس جو شخص غیراللہ کو مشکلات میں نجات کے لیے پکارتا ہے تو اس نے دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک کیا۔
جیسا کہ سورہ نمل آیت نمبر 62 میں فرمایا:
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِۚ
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں )–
نہیں – ۔ ؟!.
تمہاری حالت یہ ہے کہ آياتِ قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہو، اور زیارت ناموں ،دعا کی کتابوں (کے پیچھے پڑے ہو )اور گنبد و بارگاہوں کو جو کہ غالیوں ،کذابون اور من گھڑت باتیں گھڑنے والوں کے ہاتھوں بنی ہیں ان کی طرف چلتے ہو۔
یہ تمام احاديث جو كہ گنبد و بارگاه بنانے سے منع کرنےاور قبروں پر تعمیر کرنے اور قبر کو چار انگلیوں تک اونچا کرنے(سے منع) کے بارے میں كتب میں واردہوئی ہیں ، کیا تم نے کبھی غور کیا !وہ احادیث کس لئے ہیں ؟ یہ اس لئے ہیں کہ مبادا(کہیں ایسا نہ ہو کہ) أمت مسلمہ دیگر امتوں کی مانند شرك میں مبتلا ہوجائیں . رسول خدا (ص) نے علي (ع) دیا کہ کہ انبيا و اوليا کی قبروں کو جو كہ جاہليت کے زمانہ میں زمين سے بلند تعمیر کی گئی تھیں، (زمین کے)برابر(یا ہموار) کریں یا ڈھا دیں۔جیسا کہ كتاب الكافی و کتاب وسايل الشیعہ میں اس سے متعلق آیا ہے کہ آپ علیہ السلام سے رسول ﷺ نے فرمایا :
لا تدع قبراً إلا سويتها
يعني، کوئی ایک قبر بھی مت چھوڑنا مگر یہ کہ اسے زمين کے برابر (ہموار)کرو.
خدا لعنت کرے ظالم و جاہل سلاطين پر کہ انہوں نے طاقت اور زور کے بل بوتے پر عوام کے مال کو لوٹا اور ان کے مال سے یہ گنبد و گلدستے تعمیر کئے ۔ اور قول ِخدا و قول ائمہ ؑ کے برخلاف عمل کیا،جہاں انہوں(آئمہ ؑ نے) فرمایا تھا:
لا تطف بقبر
يعني، کسی قبر کا طواف مت کر
انہوں نے عوام کے لیے قبلہ گاہ بنائے اور علم و کتل اور سینہ زنی کو ایجاد کیا اور دنیا سے گناہوں کا بوجھ اور وبال لئے چلے گئے۔
جتنی تہمتیں اور الزامات یہ علامہ برقعی پر لگا سکتے تھے اس بے نام و نشان صاحب تحریر نے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، ، ایک جگہ الزام لگایا کہ برقعی علی ؑ کو جاہل لکھتا ہے! دوسری جگہ علامہ برقعی پر الزام لگایا ہے کہ غدير خم کا انہوں نے انکار کیا ہے حالانکہ یہ صرف تتما اور الزام تراشی ہے۔اور علامہ برقعی نے بار بار اپنی كتب میں داستان غدير خم کو درمیان میں ذکر کیا ہے،اور رسول اللہ ص کے کلمات جو غدیر کے موقع پر آپ ص نے فرمائے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔یقینا علامہ برقعی اس خطبہ غدیر کو نہیں مانتا جو باطل مطالب پر مشتمل ہے اور مجلہ رنگين كمان میں 15 سال پہلے اس خطبہ غدير کے( یعنی جعلی خطبہ غدیر)کے رد میں جو کہ سند کے لحاظ سے بہت زیادہ ضعيف ہے۔ اور شیعہ علمائے رجال نے اس خطبہ کے راويوں كذاب(جھوٹا) کہا ہے۔اور وہ خطبہ غدیر قرآنی آیات کے بھی برخلاف ہے اور اسی معنی کو آيت الله برقعی نے بار بار جیسے کہ اپنی تفسیر جو کہ تابشی از قرآن کے نام سے ہے،مفصل اس پر روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ساتھ قرآن سے اس کی وضاحت کی ہے ۔
بے نام و نشان صاھب تحریر نے آیت اللہ برقعی پر الزام لگایا ہے کہ برقعی اصل غدیر خم کا بھی منکر ہے۔حالانکہ برقعی كلماتِ رسول خدا ﷺ کو جو آپ نے یہ فرمایا:
من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه
قبول کرتا ہےاور مانتا ہے۔.
کیا اللہ تعالی نے فرمایا نہیں؟:
وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى
"اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے
(مائده/8)
یقینا، علامہ برقعی، علی ؑاور ہر اس شخص کو جو امام ہدايت ہو مانتا (اور قبول کرتا)ہے، کیوں تم عوام کو ان کے خلاف مشتعل کرتے ہو؟ کیاتم خدا و قيامت کو نہیں مانتے ہو(جو ایسے الزامات لگاتے ہو) ؟
اے بے نام و نشان صاحب تحریر! اللہ تعالی نے قرآن میں تمہیں ڈرایا ہےاور سوره سجده آيت نمبر 22 میں فرمایا ہے:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
لا تدع قبراً إلا سويتها
يعني، کوئی ایک قبر بھی مت چھوڑنا مگر یہ کہ اسے زمين کے برابر (ہموار)کرو.
خدا لعنت کرے ظالم و جاہل سلاطين پر کہ انہوں نے طاقت اور زور کے بل بوتے پر عوام کے مال کو لوٹا اور ان کے مال سے یہ گنبد و گلدستے تعمیر کئے ۔ اور قول ِخدا و قول ائمہ ؑ کے برخلاف عمل کیا،جہاں انہوں(آئمہ ؑ نے) فرمایا تھا:
لا تطف بقبر
يعني، کسی قبر کا طواف مت کر
انہوں نے عوام کے لیے قبلہ گاہ بنائے اور علم و کتل اور سینہ زنی کو ایجاد کیا اور دنیا سے گناہوں کا بوجھ اور وبال لئے چلے گئے۔
جتنی تہمتیں اور الزامات یہ علامہ برقعی پر لگا سکتے تھے اس بے نام و نشان صاحب تحریر نے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، ، ایک جگہ الزام لگایا کہ برقعی علی ؑ کو جاہل لکھتا ہے! دوسری جگہ علامہ برقعی پر الزام لگایا ہے کہ غدير خم کا انہوں نے انکار کیا ہے حالانکہ یہ صرف تتما اور الزام تراشی ہے۔اور علامہ برقعی نے بار بار اپنی كتب میں داستان غدير خم کو درمیان میں ذکر کیا ہے،اور رسول اللہ ص کے کلمات جو غدیر کے موقع پر آپ ص نے فرمائے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔یقینا علامہ برقعی اس خطبہ غدیر کو نہیں مانتا جو باطل مطالب پر مشتمل ہے اور مجلہ رنگين كمان میں 15 سال پہلے اس خطبہ غدير کے( یعنی جعلی خطبہ غدیر)کے رد میں جو کہ سند کے لحاظ سے بہت زیادہ ضعيف ہے۔ اور شیعہ علمائے رجال نے اس خطبہ کے راويوں كذاب(جھوٹا) کہا ہے۔اور وہ خطبہ غدیر قرآنی آیات کے بھی برخلاف ہے اور اسی معنی کو آيت الله برقعی نے بار بار جیسے کہ اپنی تفسیر جو کہ تابشی از قرآن کے نام سے ہے،مفصل اس پر روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ساتھ قرآن سے اس کی وضاحت کی ہے ۔
بے نام و نشان صاھب تحریر نے آیت اللہ برقعی پر الزام لگایا ہے کہ برقعی اصل غدیر خم کا بھی منکر ہے۔حالانکہ برقعی كلماتِ رسول خدا ﷺ کو جو آپ نے یہ فرمایا:
من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه
قبول کرتا ہےاور مانتا ہے۔.
کیا اللہ تعالی نے فرمایا نہیں؟:
وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى
"اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے
(مائده/8)
یقینا، علامہ برقعی، علی ؑاور ہر اس شخص کو جو امام ہدايت ہو مانتا (اور قبول کرتا)ہے، کیوں تم عوام کو ان کے خلاف مشتعل کرتے ہو؟ کیاتم خدا و قيامت کو نہیں مانتے ہو(جو ایسے الزامات لگاتے ہو) ؟
اے بے نام و نشان صاحب تحریر! اللہ تعالی نے قرآن میں تمہیں ڈرایا ہےاور سوره سجده آيت نمبر 22 میں فرمایا ہے:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں
آيت الله برقعي سے متعلق جو چیزیں تم نے اپنی تحریر میں(غلط باتیں یا الزامات) ان سے منسوب کیا ہے وہ تمام بے جا ، باطل اور افتراء ہے،اور ہم حاضر ہیں کہ ایک مجلس بحث كہ جس میں ایک ثالث کو بٹھائیں اس میں شرکت کریں اور تمہارےساتھ بحث کریں۔ اور تم سے تمہارے جھوٹ پر مبنی باتوں کے متعلق پوچھیں اور حساب لیں اور اگرچہ تمہارے لئے خرافاتی تعصب ، حسد و كينہ مانع ہدايت ہے ، ليكن ہم اللہ تعالی سے تمہارے لئے ہدایت کے طلبگار ہیں۔
آيت الله برقعي کا ایک ارادتمند .
محمد موسوي
صفحہ نمبر 2600،آپ بیتی ،آیت اللہ برقعی
آيت الله برقعي کا ایک ارادتمند .
محمد موسوي
صفحہ نمبر 2600،آپ بیتی ،آیت اللہ برقعی
No comments:
Post a Comment