• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    میں بھی شیعہ اثناعشری تھا،آیت اللہ العظمی برقعی قمی


    اپنی مشہور کتاب جو عبدالحسین شرف الدین کی المراجعات کے رد میں لکھی گئی اور اس کا نام "نقد المراجعات "(نقد لکتاب المراجعات لعبدالحسین موسوی) ہے آیت اللہ برقعیں فرماتے ہیں:


     "میں جوانی کے آوائل میں ایک شیعہ امامی تھا،جو کہ اپنے آباء و اجداد کا مقلد تھا،اور ساتھ ہی میں ایک طالب علم تھا جو دینی علوم کی تحصیل میں مصروف تھا۔یہاں تک کہ میں علماء و مراجع کی تصدیق کی روشنی میں ایک مجتہد بن گیا۔اور میں اس وقت ایک متعصب شخص تھا۔اور میں اپنے اس مذہب امامیہ /اثناعشری کی دعوت و تبلیغ کرتا تھا۔اور ہم جیسے جو اپنے باطل خرافات کو صحیح سمجھتا تھا اور اس کی توضیح کرتا تھا،اور مسئلے کو کسی بھی طرح ترویج و تاویل کر کے ثابت کرتا تھا۔
    میں نے اپنے مذھب کے حق میں بہت ساری کتابیں لکھیں،اور میں باقی علماء کی طرح اپنے علمائے مذہب کو ھداۃ المھتدون خیال کرتا تھا،یہاں تک کہ میں چالیس سال کا ہوگیا۔پس میں نے اللہ تعالی کی کتاب و آیات میں غور و فکر شروع کیا۔پس اللہ تعالی نے مجھے اپنی آیات کی برکت سے ھدایت عطا کی۔ہاں ہاں!!بے شک اللہ جسے چاہتا ہے اپنی کتاب کے ذریعے ہدایت دیتا ہے یھدی اللہ بکتابہ من یشاء من عبادہ ،پس میں نے دیکھا کہ ہمارے مذہب کے بہت سے مسائل قرآن کی آیات کے موافق و مطابق نہیں ہیں۔بلکہ اکثر روایات جیسا کہ کلینی کی الکافی،مجلسی کی بحار الانوار یہ قرآن کے برعکس تھے۔پس میں نے ایک کتاب کسر الصنم(بت شکن) لکھی الکافی کی تنقید میں،اور اس کے روایات کو قرآن و عقل پر پیش کیا،اس کے ساتھ میں نے ایک رسالہ احکام القرآن لکھا،اور پھر میں نے تابشی از قرآن لکھی جو کہ قرآں کی آیات کے فارسی ترجمہ اور اس کے نکات و حقائق پر مشتمل تھئ،پس پھر کیا تھامیرے اپنے مذہب کے لوگ میرے دشمن بن گئے،اور میری کتابوں کی اشاعت کو روکنے اور منع کرنے لگے،اور انہوں نے مجھے منبر پر کھڑے ہونے سے بھی روک دیا،اس کے بعد اللہ نے مجھے جب مجھے بیداری عطا کی تو ان لوگوں نے مجھے تھمتیں لگائیں اور عداوت و عناد ظاہر کرنے لگے،یہاں تک کہ انہوں نے کئی مرتبہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
    جب میں 8 سال کا ہوا تو میں مھدور الدم(جس کا خون حلال کیا گیا ہو/واجب القتل ) قرار پایا،میرے مذہب کے ان دوستوں اور حکومت اسلامی جمہوری ایران کی ناگاہ میں،پس میرے وطن میں اسلام نہیں رہا مگر صرف رسمی(فلم یبق من الاسلام فی وطنی الا اسمہ)،پس انہوں نے حکومت کے کچھ کارندے بھیجے تاکہ مجھے بے خبری میں قتل کریں،پس یہ لوگ میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری اذن و اجازت کے بغیر دروازہ کھولے اندر آئے،اس وقت جب میں نماز عشائ کی دوسری رکعت میں تھا،مجھے اسلحے سے مارا اور میں زمین پہ گر گیا بے ہوش ہو کر،اور میرے چہرے سے خون نکل رہا تھا پانچ جگہوں پہ،اور میں بے ہوش ہو گیا تھا ،میں تو سن پیرگی میں تھا اور بڈھا ہوگیا تھا(وبلغت من الکبر عتیا)۔لیکن خدا تعالی نے میری حفاظت کی (ولکن اللہ حفطنی وابقانی والحمد للہ رب العالمین)۔
    اس حادثہ کے بعد میرے بعض احباب نے مجھے ایک کتاب بھیجی اور مجھ سے درکواست کی کہ اس کو دیکھوں،اور اس کے اوھام و غلطیوں سے آگاہ کروں۔اس کتاب کا نام "المراجعات "تھا،جسے عبدالھسین شرف الدین جو کہ امامیہ شیعہ علماء میں سے تھا لکھی تھی،اور اس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ شیعہ مذہب اہل بیت ع اور عترت کا مذہب ہے،اور مولف کتاب نے اپنی طرف سے سوال جواب لجھ کر اہل سنت سے منسوب کیا تھا۔
     پس میں نے کتاب پہ نظر ڈالی تو میں نے دیکھا کہ جو وہ دعوی کر رہا تھا ایسا نہیں تھا،کیونکہ بہت سے مذاہب کی اختراعات،باطل عقائد و بدعات جو کہ اعدائے اسلام نے گڑھی تھیں،جنہوں نے اسلام کو اس کے عقائد و فروع کو پھلتے پھولتے دیکھا،اور اسلام کی بلندی و شان و شوکت سے مغلوب تھے،تو انہون نے فاسد اور گمراہ کن روایات کو اسلام سے نسبت دی۔اور بزرگان دین سے،اور خصوصا آئمہ اہل بیت ع و عترت عکو اس کیلے ایک ڈھال و چھتری کے طور پر استعمال کیا۔اور ان کے نام سے اپنی خرافات اور کفریات کو پھیلایا "عترت ع کے نام پر"۔اور انہوں نے اس کو اسلام کے خلاف ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مسلمانوں کے بیچ تفرقہ کا بیچ بویا،اور مختلف مذاہب ایجاد کیں اور بزرگ "مومنین" کے نام پر گمراہ کن احادیث گڑھیں۔
    (آیت اللہ برقعی نے بعد میں "المراجعات" کی تفصیل سے نقد کو بیان کیا اور اس کے بعد آپ نے ایک مستقل کتاب "تضاد مذہب جعفری با اسلام و قرآن" لکھی جس میں اس موضوع کو مفصل بیان کیا ہے۔)

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel