آیت اللہ برقعی کا موجودہ اور رائج رسومات عزاداری کے حوالے سے موقف بالکل ہی مختلف ہے۔آیت اللہ برقعی نے اپنی اکرل کتب جیسے رہنمود سنت در رد اہل بدعت،خرافات وفور در زیارت قبور،بت شکن،الجامع المنقول فی سنن الرسول ص،اور تفسیر تابشی از قرآن و غیرہ میں رایج عزاداری کو مسترد کیا ہے۔بلکہ ان کاموں کو حرام اور بدعت قرار دیا ہے۔ان کے خیال میں قیام امام حسین ع کا مقصد امت کی اصلاح تھا اور امام حسین ع کے قیام کی پیروی یعنی بدعات و خرافات کے خلاف جہاد اور اس راہ میں خود کو قربان کرنے والا شخص ہی حقیقی پیروکارِ حسین ع ہے۔چنانچہ برقعی نے اپنی پوری زندگی اصلاح امت،رد بدعت و خرافات اور اس کی خاطر چار بار جیل میں اور قاتلانہ حملوں کو سہ کر عملی نمونہ اسوہ حسینی پیش کیا۔برقعی نے 80 سال سے زیادہ کی عمر میں صحیح عقیدہ کی خاطر جیل کی سلاخوں میں بند ہونا اور جیل کے اندر طرح طرح کے مصائب برداشت کیے۔یقینا سیرت حسینی پر عمل پیرا ہو کر وقت کے ہر ظالم و یزید کے سامنے کلمہ حق کہنا اور امت کی اصلاح کی خاطر تن من دھن قربان کرنا حقیقی حسینیت اور مقصد قیام امام حسین ع ہے۔
رہنمود سنت میں آیت اللہ برقعی صفحہ 171 پر فرماتے ہیں:
"علی ع کا اصول دین تو اللہ اور اس کے رسول ص پر ایمان رکھنا تھا،لیکن ان کی پیروی کا دعوی کرنے والوں کے اصول دین علی ع کے اصول دین سے زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ علی ع نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ بھی رسول اللہ ص کی وفات کے دن مجلس عزاء اور ان کی ولادت کے دن کو جشن کے دن کے طور پر کبھی نہیں منایا۔لیکن ان کی پیروی کا دعوی کرنے والے اپنے اماموںمیں سے کسی امام کی وفات یا ان کی ولادت کے طور پر نصف سال جشن و عزاداری میں گزارتے ہیں۔اور انہوں نے شعائر مذہب کے نام پر بدعات گڑھ لیے ہیں جیسے روضہ خوانی،سینہ زنی،زنجیر زنی،فریاد اور واویلا کرنا،جھوٹی تعریفیں(قصیدے)،علم او رگھوڑے،دستے،داد اور فریاد ،اوردستوں کا ماتمی رقص۔۔اور ان سب کو دین کے نام پر اضافہ کیا ہے۔حالانکہ یہ تمام کام بدعات اور اللہ و رسول ص کے منع کردہ کام ہیں۔حتی خود علمائے شیعہ نے اپنی کتب میں رسول ص اور آئمہ اہل بیت ع کی احادیث ان بدعات کے متعلق نقل کیے ہیں جن کی رو سے یہ تمام کام منع ہیں اور لیکن علمائے امامیہ میں سے کوئی ایک عالم بھی لوگون کو ان حرام کامون سے روکتا ہے بلکہ خود یہ علماء مراسم روضہ خوانی برپا کرتے ہیں۔بلکہ لوگوں کو ان مذکورہ کامون کی ترغیب اور شوق دلاتے ہیں۔
میں اس جگہ پر اس بات کی مناسبت سے ان کاموں کو منع کرنے کے متعلق آثار و احادیث نقل کرتا ہون۔
شیخ صدوق ابن بابویہ قمی نے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ جلد چہارم صفحہ 376 پر رسول اللہ ص سے روایت نقل کی ہے۔آپ ص نے فرمایا ہے :
اَلنِّياحَةُ مِن عَمَلِ الجاهِليّة
نوحہ کرنا(نوحہ خوانی) جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں۔
شہید ثانی نے کتاب مسکن الفؤاد صفحہ 107 میں رسول اللہ ص کا ارشاد نقل کیا ہے۔آپ ص نے فرمایا:
لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب
جو شخص مصیبت کے وقت چہرے پر مارے یا گریبان پھاڑے وہ ہم (مسلمانوں)میں سے نہیں۔
"علی ع کا اصول دین تو اللہ اور اس کے رسول ص پر ایمان رکھنا تھا،لیکن ان کی پیروی کا دعوی کرنے والوں کے اصول دین علی ع کے اصول دین سے زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ علی ع نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ بھی رسول اللہ ص کی وفات کے دن مجلس عزاء اور ان کی ولادت کے دن کو جشن کے دن کے طور پر کبھی نہیں منایا۔لیکن ان کی پیروی کا دعوی کرنے والے اپنے اماموںمیں سے کسی امام کی وفات یا ان کی ولادت کے طور پر نصف سال جشن و عزاداری میں گزارتے ہیں۔اور انہوں نے شعائر مذہب کے نام پر بدعات گڑھ لیے ہیں جیسے روضہ خوانی،سینہ زنی،زنجیر زنی،فریاد اور واویلا کرنا،جھوٹی تعریفیں(قصیدے)،علم او رگھوڑے،دستے،داد اور فریاد ،اوردستوں کا ماتمی رقص۔۔اور ان سب کو دین کے نام پر اضافہ کیا ہے۔حالانکہ یہ تمام کام بدعات اور اللہ و رسول ص کے منع کردہ کام ہیں۔حتی خود علمائے شیعہ نے اپنی کتب میں رسول ص اور آئمہ اہل بیت ع کی احادیث ان بدعات کے متعلق نقل کیے ہیں جن کی رو سے یہ تمام کام منع ہیں اور لیکن علمائے امامیہ میں سے کوئی ایک عالم بھی لوگون کو ان حرام کامون سے روکتا ہے بلکہ خود یہ علماء مراسم روضہ خوانی برپا کرتے ہیں۔بلکہ لوگوں کو ان مذکورہ کامون کی ترغیب اور شوق دلاتے ہیں۔
میں اس جگہ پر اس بات کی مناسبت سے ان کاموں کو منع کرنے کے متعلق آثار و احادیث نقل کرتا ہون۔
شیخ صدوق ابن بابویہ قمی نے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ جلد چہارم صفحہ 376 پر رسول اللہ ص سے روایت نقل کی ہے۔آپ ص نے فرمایا ہے :
اَلنِّياحَةُ مِن عَمَلِ الجاهِليّة
نوحہ کرنا(نوحہ خوانی) جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں۔
شہید ثانی نے کتاب مسکن الفؤاد صفحہ 107 میں رسول اللہ ص کا ارشاد نقل کیا ہے۔آپ ص نے فرمایا:
لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب
جو شخص مصیبت کے وقت چہرے پر مارے یا گریبان پھاڑے وہ ہم (مسلمانوں)میں سے نہیں۔
شیخ کلینی نے اپنی کتاب روضہ کافی میں جلد نمبر 1،صفحہ نمبر 234 میں رسول اللہ ص کا قول نقل کیا ہے،آپ ص نے فرمایا:
ضَربُ المُسلِمِ بِيَدِهِ عَلی فَخِذِهِ عِندَ المُصيبَةِ إحباطٌ لِأجرِه
یعنی جب کوئی مسلمان مصیبت کے وقت اپنی ران پر ہاتھ مارے تو اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
شہید ثانی نے اپنی کتاب مسکن الفؤاد میں صفحہ نمبر 1088 پر رسول اللہ ص کا قول نقل کیا ہے،آپ ص نے فرمایا:
لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور
اللہ کی لعنت ہو اس عورت پر جو مصیبت کے وقت اپنے چہرے پر خراش کرے،اور گریبان چاک کرے،اور فریاد و فغان کرے۔
امام زید بن زین العابدین علیھما السلام نے اپنی کتاب مسند امام زید ع میں صفحہ نمبر 1755 پر رسول اللہ ص کا قول نقل کیا ہے،آپ ص نے فرمایا:
لَيسَ مِنّا مَن حَلَقَ و لا مَن سَلَقَ و لا مَن خَرَقَ و لا مَن دعا بِالوَيلِ و الثُّبور
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت بال تراشے(نوچے)،اپنی آواز بلند کرے(واویلا کرے چیخے)،گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان کرے(واویلا،واثبورا کہے)۔ (مسند الامام زید، ص 175)
علی ع خود تابع قرآن و سنت تھے،ان کی اپنی کوئی سنت نہیں تھی،نہج البلاغہ میں کلمات قصار ،نمبر 136 میں فرمایا:
ینزل الصبرعلی قدر المصیبه و من ضرب یده علی فخذه عند مصیبته حبط عمله
صبر بقدر مصیبت نازل ہوتا ہے اور جس نے مصیبت کے موقع پر ہاتھ ران پر مارا گویا عمل کو اجر کو برباد کر دیا۔
شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد جلد نمبر دوم صفھہ 97 پر امام حسین ع سے نقل کیا ہے کہ آپ ع نے اپنی بہن زینب سے فرمایا:
يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ
پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص 97)
ضَربُ المُسلِمِ بِيَدِهِ عَلی فَخِذِهِ عِندَ المُصيبَةِ إحباطٌ لِأجرِه
یعنی جب کوئی مسلمان مصیبت کے وقت اپنی ران پر ہاتھ مارے تو اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
شہید ثانی نے اپنی کتاب مسکن الفؤاد میں صفحہ نمبر 1088 پر رسول اللہ ص کا قول نقل کیا ہے،آپ ص نے فرمایا:
لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور
اللہ کی لعنت ہو اس عورت پر جو مصیبت کے وقت اپنے چہرے پر خراش کرے،اور گریبان چاک کرے،اور فریاد و فغان کرے۔
امام زید بن زین العابدین علیھما السلام نے اپنی کتاب مسند امام زید ع میں صفحہ نمبر 1755 پر رسول اللہ ص کا قول نقل کیا ہے،آپ ص نے فرمایا:
لَيسَ مِنّا مَن حَلَقَ و لا مَن سَلَقَ و لا مَن خَرَقَ و لا مَن دعا بِالوَيلِ و الثُّبور
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت بال تراشے(نوچے)،اپنی آواز بلند کرے(واویلا کرے چیخے)،گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان کرے(واویلا،واثبورا کہے)۔ (مسند الامام زید، ص 175)
علی ع خود تابع قرآن و سنت تھے،ان کی اپنی کوئی سنت نہیں تھی،نہج البلاغہ میں کلمات قصار ،نمبر 136 میں فرمایا:
ینزل الصبرعلی قدر المصیبه و من ضرب یده علی فخذه عند مصیبته حبط عمله
صبر بقدر مصیبت نازل ہوتا ہے اور جس نے مصیبت کے موقع پر ہاتھ ران پر مارا گویا عمل کو اجر کو برباد کر دیا۔
شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد جلد نمبر دوم صفھہ 97 پر امام حسین ع سے نقل کیا ہے کہ آپ ع نے اپنی بہن زینب سے فرمایا:
يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ
پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص 97)
کلینی نے فروع کافی جلد اول مین صفھہ نمبر 232 پر امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا آپ ع نے فرمایا:
أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه
انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔ .فروع کافی، ج1، ص 232
أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه
انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔ .فروع کافی، ج1، ص 232
اس موضوع پر مذکورہ بالا روایات سے کہیں زیادہ روایات موجود ہیں۔جو شخص مطالعہ یا رجوع کرنا چاہے وہ میری کتاب الجامع المنقول فی سنن الرسول ص یا دیگر معتبر شیعہ کتب کا مطالعہ کریں۔
آیت اللہ برقعی کتاب رہنمود سنت صفحہ نمبر 173
آیت اللہ برقعی کتاب رہنمود سنت صفحہ نمبر 173
اس کے علاوہ آیت اللہ برقعی اپنی کتاب سوانح ایام صفہہ نمبر 83میں فرماتے ہیں:
روضہ خوانی حرام ہے کیونکہ ان کی اکثر باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔اور حقیقت میں یہ روضہ خوان پیغمبر ص اور آئمہ علیہم السلام کے دشمن ہیں۔
کتاب رہنمود سنت صفحہ نمبر 196 پر آیت اللہ برقعی فرماتے ہیں:
ہزاروں سال بعد بھی یہ عزا کر رہے ہیں اور حسین ع کے نام پر ہزاروں بدعات انہوں نے گڑھ لیے ہیں۔ہر سال عزاداری اور جشن کے نام پر یہ لوگون کے پیسے لوٹتے ہیں اور بدعات پر مبنی کام ایجاد کرتے رہتے ہیں۔حسین ع کے قتل کے بعد سے یہ کوفہ والے غوغا کرتے ہیں اور ان کی نسلیں ہر سال غوغا کرتے رہتے ہیں۔اور فتنہ پیلا تے ہیں۔اور ان کی عزاداری میں جھوٹ اور بدعت کو جائز شمار کیا جاتا ہے۔حالانکہ امام حسین ع کی شہادت (شہادتِ حسین ع) اسی لیے تو تھی کہ دین کے نام پر بدعات اور دین فروشی کے دکان ایجاد نہ ہوں۔
روضہ خوانی حرام ہے کیونکہ ان کی اکثر باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔اور حقیقت میں یہ روضہ خوان پیغمبر ص اور آئمہ علیہم السلام کے دشمن ہیں۔
کتاب رہنمود سنت صفحہ نمبر 196 پر آیت اللہ برقعی فرماتے ہیں:
ہزاروں سال بعد بھی یہ عزا کر رہے ہیں اور حسین ع کے نام پر ہزاروں بدعات انہوں نے گڑھ لیے ہیں۔ہر سال عزاداری اور جشن کے نام پر یہ لوگون کے پیسے لوٹتے ہیں اور بدعات پر مبنی کام ایجاد کرتے رہتے ہیں۔حسین ع کے قتل کے بعد سے یہ کوفہ والے غوغا کرتے ہیں اور ان کی نسلیں ہر سال غوغا کرتے رہتے ہیں۔اور فتنہ پیلا تے ہیں۔اور ان کی عزاداری میں جھوٹ اور بدعت کو جائز شمار کیا جاتا ہے۔حالانکہ امام حسین ع کی شہادت (شہادتِ حسین ع) اسی لیے تو تھی کہ دین کے نام پر بدعات اور دین فروشی کے دکان ایجاد نہ ہوں۔
مزید آیت اللہ برقعی اپنی کتاب رہنمود سنت در رد اہل بدعت صفحہ 188 پر گریہ کے متعلق لکھتے ہیں :
قیامت تک گریہ کرنا ایک لغو کام ہے۔رسول اللہ ص نے بار بار میت کیلے یہ کام کرنے سے منع کیا ہے۔اس کے علاوہ امام حسین ع سعادت کے ساتھ اور راحت کے ساتھ بہشت میں موجود ہیں ،اس قسم کا گریہ کرنا(رونا چلانا چیخنا) حسین ع کی رضا کے بھی خلاف ہے۔
---------------
آیت اللہ ابو الفضل برقعی قمی کا مدح قصیدہ اور نوحہ سے متعلق اہم تحریر
قیامت تک گریہ کرنا ایک لغو کام ہے۔رسول اللہ ص نے بار بار میت کیلے یہ کام کرنے سے منع کیا ہے۔اس کے علاوہ امام حسین ع سعادت کے ساتھ اور راحت کے ساتھ بہشت میں موجود ہیں ،اس قسم کا گریہ کرنا(رونا چلانا چیخنا) حسین ع کی رضا کے بھی خلاف ہے۔
---------------
آیت اللہ ابو الفضل برقعی قمی کا مدح قصیدہ اور نوحہ سے متعلق اہم تحریر
"خدا لعنت کرے ایسے شخص پر که مدّاحی و تعریف و تمجید و اظهار ارادت و ...... کے نام پر ہر قسم کے خرافت اور ہر ایک باطل کو مسلمین و پیروان قرآن میں رواج دیتے ہیں.معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام دین مدّاحی و نوحه خوانی غیرمنطقی کاموں کا دین نہیں اور رسول خدا(ص) سے اس قسم کے کاموں کی نهی فرمایا ہے. چنانچہ فرمایا:
«اُحثُوا في وُجوه المَدّاحينَ التُّراب»
« مدّاحان(تعریف کرنے والے) کے چہرے(منہ میں) پر خاک ڈالو »وسائل الشیعه، ج12، ص 132، حدیث اوّل.
« مدّاحان(تعریف کرنے والے) کے چہرے(منہ میں) پر خاک ڈالو »وسائل الشیعه، ج12، ص 132، حدیث اوّل.
اور نوحه خوانی کے بارے میں فرمایا:
«اَلنِّياحَةُ مِن عَمَلِ الجاهِليّة»
«نوحه خوانی [عهد] جاهلیت کے کاموں میں سے ہے»من لایحضره الفقیه، ج4 ص 376 ـ وسائل الشیعه، ج2، ص915
اور
«نَهي رسولُ الله (ص) عَنِ الرَّنَّةِ عِندَ المصيبة ونَهی عَنِ النِّياحَة و الإستماعِ إلَيها»
« رسول خدا(ص) سے به وقت مصيبت فریاد كرنے ،اور نوحه خواني سے اور اسے سننے سے نهی(منع) فرمایا»وسائل الشّیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91 - مسند زید (ص 175) پر نیز حضرت علی(ع) سے مروی ہے که «نَهَی النَّبِیُّ (ص) عَنِ النَّوحِ» « پیامبر(ص) نے نوحه خوانی سے منع فرمایا».
«نوحه خوانی [عهد] جاهلیت کے کاموں میں سے ہے»من لایحضره الفقیه، ج4 ص 376 ـ وسائل الشیعه، ج2، ص915
اور
«نَهي رسولُ الله (ص) عَنِ الرَّنَّةِ عِندَ المصيبة ونَهی عَنِ النِّياحَة و الإستماعِ إلَيها»
« رسول خدا(ص) سے به وقت مصيبت فریاد كرنے ،اور نوحه خواني سے اور اسے سننے سے نهی(منع) فرمایا»وسائل الشّیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91 - مسند زید (ص 175) پر نیز حضرت علی(ع) سے مروی ہے که «نَهَی النَّبِیُّ (ص) عَنِ النَّوحِ» « پیامبر(ص) نے نوحه خوانی سے منع فرمایا».
اورجس وقت جناب جعفر بن أبیطالب ـ رضوانُ الله عليه ـ شہید ہوگئے تو حضرت فاطمه(ع) سے رسول اللہ نے فرمایا:
«لاتَدعی بِذُلٍّ و لاثُکلٍ ولاحزنٍ» « کسی کی موت پر اور جنگ میں کسی کی شہادت پر غم و واویلا نہ کرنا ۔۔۔//۔۔واذلّاه و واويلاه و واحزناه مت کہو//» وسائل الشیعه، ج2 ص 915 و ج12، ص 91
اور «إنَّ رسولَ الله(ص) قال لِفاطمةَ(ع) اذا أنَا مِتُّ فَلاتَخمِشی عَلَیَّ وَجهاً و لاتَرخي عَلَیَّ شَعراً و لاتُنادِي بِالوَيل و لاتُقيمنّ عَلَيّ نائِحَةً»
«رسول خدا(ص) نے حضرت فاطمه(ع) سے فرمایا کہ بیٹی!جب میں انتقال کر جاؤں تو اس وقت تم میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا اور اپنے بال نہ کھولنا اور واویلا نہ کرنا(مجھ پر نوحہ نہ کرنا) اور نوحہ کرنے والیوں کو نہ بلانا۔»وسائل الشیعه، ج2، ص 916 –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوٹ:جلاء العیون جلد اول صفحہ 666 پر رسول خدا نے سیدہ النساء کو جو وصیت کی تھی وہ یہ ہے:
«رسول خدا(ص) نے حضرت فاطمه(ع) سے فرمایا کہ بیٹی!جب میں انتقال کر جاؤں تو اس وقت تم میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا اور اپنے بال نہ کھولنا اور واویلا نہ کرنا(مجھ پر نوحہ نہ کرنا) اور نوحہ کرنے والیوں کو نہ بلانا۔»وسائل الشیعه، ج2، ص 916 –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوٹ:جلاء العیون جلد اول صفحہ 666 پر رسول خدا نے سیدہ النساء کو جو وصیت کی تھی وہ یہ ہے:
"اے فاطمہ واضح ہو کہ پیغمبر کیلے گریباں چاک نہ کرنا چاہیے۔اور بال نہ نوچنے چاہیں۔اور واویلا نہ کرنا لیکن وہ کہنا جو تیرے باپ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے مرنے پر کہا کہ 'آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔
اور مزید یہ بھی آتا ہے:
"پس تم لوگ فوج در فوج گھر میں آنا اور مجھ پر صلوۃ بھیجنا اور سلام کہنا،اور مجھ کو نالہ و فریاد اور گریہ و زاری سے آزار نہ دینا(یعنی یہ کام نہ کرنا)"۔
(جلاء العیون جلد اول صفحہ 777)
"پس تم لوگ فوج در فوج گھر میں آنا اور مجھ پر صلوۃ بھیجنا اور سلام کہنا،اور مجھ کو نالہ و فریاد اور گریہ و زاری سے آزار نہ دینا(یعنی یہ کام نہ کرنا)"۔
(جلاء العیون جلد اول صفحہ 777)
اور اس کے علاوہ حضرت علی ع نے فاطمۃ الزھراء سے جعفر بن ابی طالب کے موت پر کہا:
لا تدعی بویل ولا تکل ولا تحزن ولا حرب وما قلت فیہ فقد صدقت۔
کسی کی موت پر اور کسی کے دوران جنگ شہید ہوجانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا اور جو کچھ اس کے بارے میں میں نے کہا ہے وہ سچ ہے۔
لا تدعی بویل ولا تکل ولا تحزن ولا حرب وما قلت فیہ فقد صدقت۔
کسی کی موت پر اور کسی کے دوران جنگ شہید ہوجانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا اور جو کچھ اس کے بارے میں میں نے کہا ہے وہ سچ ہے۔
اس کے علاوہ حضرت خدیضہ ع کو بھی رسول اللہ نے صبر کی تلقین کی کہ بس آنکھیں اشک بار ہیں اور دل غمگین ہے' اور میں نہیں کہتا کہ جو موجب غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں۔،،،!
اس کے علاوہ امیرالمومنین ع نے نہج البلاغہ میں رسول اللہ کی وفات کو سب سے بڑی مصیبت قرار دیا لیکن اس پر بھی جزع و فزع نہیں کیا کیونکہ رسول ص نے منع فرمایا تھا۔
اور سیدہ نساء اہل الجنہ،فاطمۃ بنت محمد ص کی وفات پر بھی علی ع اشک بار تھے لیکن غیر شرعی کاموں سے پر ہیز کیا۔
اللہ ہمیں ان بزرگوار دین کے سچے محافظین کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔والسلام علی من اتبع الھدی
اللہ ہمیں ان بزرگوار دین کے سچے محافظین کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔والسلام علی من اتبع الھدی
:ا یڈمن))
----------------------------------------------------------------------------
----------------------------------------------------------------------------
حضرت سیّد الشهداء(ع) نے نیز اپنے نانا کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے حضرت زنیب سے فرمایا:
«يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ»
«پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا » (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص97).
اور فرمایا:
«لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور»
«خدا لعنت کرے اس عورت پر جو که [ بوقت مصیبت] چهرة کو نوچے اور گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان(ہائے ہلاکت اور ہائے بربادی کے الفاظ بولے )کرے »مسکّن الفواد، زین الدین العاملی، ص 108 – مستدرک الوسائل، ج1، ص144
«يا اُخَيَّة اِنيّ اَقسَمتُ عَلَيكِ فَاَبِرّى قَسَمي لاتَشِقّی عَلَيَّ جَيباً وَ لاتَخمِشي عَلَيَّ وَجهاً و لاتَدعى عَلَيَّ بِالوَيل و الثُّبُور اذا أنَا هَلَكتُ»
«پیاری بہن!میں تجھے قسم دلاتا ہوں ۔میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔میرے مرنے پر اپنا گریباں نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرے کو نہ خراشنا اور نہ ہی (ہائے)ہلاکت و (ہائے) بربادی کے الفاظ نہ بولنا » (الارشاد، شیخ مفید، ج2، ص97).
اور فرمایا:
«لَعَنَ اللهُ الخامِشَةَ وَجهَها و الشّاقَّةَ جَيبَها وَ الدّاعِيَةَ بِالوَيلِ و الثُّبور»
«خدا لعنت کرے اس عورت پر جو که [ بوقت مصیبت] چهرة کو نوچے اور گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان(ہائے ہلاکت اور ہائے بربادی کے الفاظ بولے )کرے »مسکّن الفواد، زین الدین العاملی، ص 108 – مستدرک الوسائل، ج1، ص144
اور «لَيسَ مِنّا مَن حَلَقَ و لا مَن سَلَقَ و لا مَن خَرَقَ و لا مَن دعا بِالوَيلِ و الثُّبور»
« وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت بال تراشے(نوچے)،اپنی آواز بلند کرے(واویلا کرے چیخے)،گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان کرے(واویلا،واثبورا کہے۔مسند الامام زید، ص 175 ـ اس حدیث کو شهید ثانی نے اس طرح بیان کیا: «لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب» «وہ ہم میں سے نہیں جو بوقت مصیبت گالوں پر مارے اور گریباں پھاڑے». (مسکّن الفؤاد، ص 108).
« وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت بال تراشے(نوچے)،اپنی آواز بلند کرے(واویلا کرے چیخے)،گریبان پھاڑے اور فریاد و فغان کرے(واویلا،واثبورا کہے۔مسند الامام زید، ص 175 ـ اس حدیث کو شهید ثانی نے اس طرح بیان کیا: «لَيسَ مِنّا مَن ضَرَبَ الخُدودَ وَ شَقَّ الجُيوب» «وہ ہم میں سے نہیں جو بوقت مصیبت گالوں پر مارے اور گریباں پھاڑے». (مسکّن الفؤاد، ص 108).
اور فرمایا «اِنّما نُهِيتُ عَنِ النَّوحِ عَن صَوتَينِ أحمَقَينِ فاجِرَين صَوتٍ عِندَ نغم لَعِبٍ و لَهوٍ و مَزامير شيطانٍ و صَوتٍ عِندَ مُصيبَةٍ خَمشِ وُجوهٍ وَ شَقِّ حُيُوبٍ و رَنَّةِ شيطانٍ»
« مجھے منع کیا گیا ہے نوحه خوانی سے ، دو أحمق فاجر آوازوں سے جن میں سے ایک به وقت لَهو و لعب و مزمارهای شیطانی کی آواز ہے اور دوسری آوازو به وقت مصیبت چہرہ یا منہ نوچنا و گریباں پھاڑنا اور شیطانی فریادیں کرنا»مستدرك الوسائل ج1، ص 144 و 145
« مجھے منع کیا گیا ہے نوحه خوانی سے ، دو أحمق فاجر آوازوں سے جن میں سے ایک به وقت لَهو و لعب و مزمارهای شیطانی کی آواز ہے اور دوسری آوازو به وقت مصیبت چہرہ یا منہ نوچنا و گریباں پھاڑنا اور شیطانی فریادیں کرنا»مستدرك الوسائل ج1، ص 144 و 145
اور فرمایا :«أربَعٌ فی أمَّتی مِن أمرِ الجاهليّة لايَترُکونَهُنَّ : الفَخرُ فی الأحسابِ و الطَّعنُ فی الأنساب و الإستسقاءُ بِالنّجوم و النِّياحَةُ»
«چهار چیزیں جو کہ امور جاهلیّت میں سے ہیں میری امت ترک نہیں کریں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، طعنه کرنا نسب میں ،اور ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحه خوانی »المصنّف، ج3، ص 559 ـ وسائل الشیعه، ج12 ص91 و مستدرک الوسائل، ج1 ص 143
«چهار چیزیں جو کہ امور جاهلیّت میں سے ہیں میری امت ترک نہیں کریں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، طعنه کرنا نسب میں ،اور ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحه خوانی »المصنّف، ج3، ص 559 ـ وسائل الشیعه، ج12 ص91 و مستدرک الوسائل، ج1 ص 143
پیامبر(ص) نے بوقت شهادت جناب حمزه(ع) جو آپ کے چچا تھے لوگوں کو نوحه خوانی منع فرمایا»المصنّف، ج،3 ص، 561 .
اور فرمایا: «صَوتانِ ملعونان يَبغُضُهُمَا اللهُ: اعوالٌ عِندَ مُصيبةٍ و صوتٌ عند نغمةٍ يَعنی النَّوحَ و الغَناءَ» «دو آوازیں مورد و موجب لعنت ہیں جنہیں خدا پسند نہیں کرتا، ناله و فریاد کرنا بوقت مصیبت اور غناکی آواز کی آواز یعنی نوحه خوانی اور آواز غنا کی آواز»مستدرک الوسائل، ج1، ص 144
و اسی طرح فرمایاد: «ضَربُ المُسلِمِ بِيَدِهِ عَلی فَخِذِهِ عِندَ المُصيبَةِ إحباطٌ لِأجرِه» «هنگام مصیبت کے وقت کوئی مسلمان اپنے رانِ پر ہاتھ پیٹے ، اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے»فروع کافی، ج1 ص 224 ـ چنانچہ أمیرالمؤمین نے نیز فرمایا : «مَن ضَرَبَ يَدَهُ عَلی فَخِذِهِ عِندَ مُصيبَتِهِ حَبِطَ أجرُهُ (عَمَلُهُ) = جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے ۔تو اس کے اعمال(اجر) ضائع ہوگئے» (نهج البلاغه، حکمت 144)
اسی لئے حضرت باقر(ع) نے فرمایا:
«أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه»
« انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔».فروع کافی، ج1، ص 222
«أشَدُّ الجَزَعِ الصُّراخُ بِالوَيل وَ العَويل و لَطمُ الوَجه و الصَّدر وَ جَزُّ ا لشَّعرِ عَنِ النَّواصی و مَن أقامَ النّواحَةَ فَقَد تَرَكَ الصَّبرَ و أخَذَ في غَيرِطريقِه»
« انتہائے جزع ویل عویل کی پکار کرنا ہے،اور منہ پر طمانچہ مارنا ہے،سینہ زنی کرنا اور بال نوچنا اور جس نے نوحہ خوانی و ماتم کیا اس نے صبر کو چھوڑ دیا اور غیر شرعی کام کیا۔».فروع کافی، ج1، ص 222
والسلام علی من اتبع الھدی| | |
از خادم شریعت مطھرہ ابن الرضا برقعی قمی
از خادم شریعت مطھرہ ابن الرضا برقعی قمی
----------------
اس صورت میں جاننا چاہیے کہ اصولاً گریه کرنا خصوصاً اگر قصدا ہو، فائده نہیں رکھتا۔اور اسلام دین گریه وزاری نہیں ہے مگر روضه خوانوں کے مذهب کی بنیاد کیلے یہ گریہ و زاری البتّه بہت پرفائده ہے!!! أمّا اسلام مسلمانوں سے گریہ نہیں چاہتا(طلب نہیں کرتا) بلکہ فرمایا:
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟
پیغمبر کہہ دیجئے کہ یہ قرآن فضل و رحماُ خدا کا نتیجہ ہے لہٰذا انہیں اس پر خوش ہونا چاہئے
[سورة يونس:58]
بلکه کفّار و منافقین سے فرمایاکہ اپنے نفاق و بدبختی پر گریہ کرو
فَلْيَضْحَكُوا۟ قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا۟ كَثِيرًۭا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿٨٢﴾
ابان کو چاہیے کہ یہ لوگ ہنسیں کم اور روئیں(گریہ کریں) زیادہ کہ یہی ان کے کئے کی جزا ہے
[سورة التّوبة:82]
دین اسلام گریہ و زاری و گریبان(لباس) پھاڑنے اور زنجیرمارنےکا دین نہیں ہے بلکہ دین رشادت و شجاعت و مقاومت ہے چنانکه قیام امام حسین(ع) اس کا نمایاں نمونہ ہے .(فتأمّل)
حضرت علی(ع) نے اپنے سے پہلے کے خلفاء سے یہ نہیں فرمایا کہ تم رسول ص کے یوم وفات پہ کیوں مراسم روضه(نوحہ خوانی) و عزاداری برپا نہیں کرتے اور مساجد کو سیاہ پوش نہیں کرتے؟؟؟ اور راستوں میں سینہ زنی و طبل بجاتے ہوئے جلوس کیوں نہیں نکالتے؟
اور آپ ع نے خود اپنی زمانہ خلافت میں نیز شهدای بدر و أحداور تمام غزوات کے شہداء کی خاطر مراسم مرثیہ خوانی یا پھر وفات پیغمبر اور حضرت زهرا کیلے کوئی روضہ خوانی و سینہ زنی و زنجیر زنی و گریہ و زاری کے مجالس قائم نہیں کئے. "
مفاتیح الجنان و قرآن
خادم شریعت مطھرہ:آیت اللہ برقعی قمی الرضوی
اس صورت میں جاننا چاہیے کہ اصولاً گریه کرنا خصوصاً اگر قصدا ہو، فائده نہیں رکھتا۔اور اسلام دین گریه وزاری نہیں ہے مگر روضه خوانوں کے مذهب کی بنیاد کیلے یہ گریہ و زاری البتّه بہت پرفائده ہے!!! أمّا اسلام مسلمانوں سے گریہ نہیں چاہتا(طلب نہیں کرتا) بلکہ فرمایا:
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟
پیغمبر کہہ دیجئے کہ یہ قرآن فضل و رحماُ خدا کا نتیجہ ہے لہٰذا انہیں اس پر خوش ہونا چاہئے
[سورة يونس:58]
بلکه کفّار و منافقین سے فرمایاکہ اپنے نفاق و بدبختی پر گریہ کرو
فَلْيَضْحَكُوا۟ قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا۟ كَثِيرًۭا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿٨٢﴾
ابان کو چاہیے کہ یہ لوگ ہنسیں کم اور روئیں(گریہ کریں) زیادہ کہ یہی ان کے کئے کی جزا ہے
[سورة التّوبة:82]
دین اسلام گریہ و زاری و گریبان(لباس) پھاڑنے اور زنجیرمارنےکا دین نہیں ہے بلکہ دین رشادت و شجاعت و مقاومت ہے چنانکه قیام امام حسین(ع) اس کا نمایاں نمونہ ہے .(فتأمّل)
حضرت علی(ع) نے اپنے سے پہلے کے خلفاء سے یہ نہیں فرمایا کہ تم رسول ص کے یوم وفات پہ کیوں مراسم روضه(نوحہ خوانی) و عزاداری برپا نہیں کرتے اور مساجد کو سیاہ پوش نہیں کرتے؟؟؟ اور راستوں میں سینہ زنی و طبل بجاتے ہوئے جلوس کیوں نہیں نکالتے؟
اور آپ ع نے خود اپنی زمانہ خلافت میں نیز شهدای بدر و أحداور تمام غزوات کے شہداء کی خاطر مراسم مرثیہ خوانی یا پھر وفات پیغمبر اور حضرت زهرا کیلے کوئی روضہ خوانی و سینہ زنی و زنجیر زنی و گریہ و زاری کے مجالس قائم نہیں کئے. "
مفاتیح الجنان و قرآن
خادم شریعت مطھرہ:آیت اللہ برقعی قمی الرضوی
"آیت اللہ برقعی ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں آقای فلسفی سے ملاقات ہوئی،چنانچہ آقای فلسفی نے برقعی کو گاڑی میں بٹھایا،گفتگو کے دوران آقای فلسفی نے برقعی سے پوچھا میں نے سنا ہے کہ تم کہتے ہو روضہ خوانی حرام ہے؟
برقعی نے کہا:
میں یقینا کہتا ہوں کہ روضہ خوانی حرام ہے،اس کیلے امداد اور پیسے دینا حرام ہے ۔
آقای فلسفی:
کس لئے حرام ہے؟
برقعی:
میں نے کہا کہ روضہ خوانی میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ سب قرآن کے خلاف ہیں اور حقیقت میں یہ پیغمبر و آئمہ ع سے دشمنی کرنا ہے۔
ﺁﻗﺎﻱ ﻓﻠﺴﻔﻲ : کیا میرے لئے بھی! اور پوچھا کہ کیا ان کے منبر بھی حرام ہیں؟
برقعی:یقینا حرام ہے
فلسفی: کس لئے
میں نے ان کو سمجھانے کیلے کہا کہ آقای فلسفی کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک دن عاشورائ کے ایام میں آپ بازار میں منبر پر تھے؟؟
کہا:ہاں بے شک تھا
برقعی: اسی روز میں بازار چلا گیا تھا جب میں نے آپ کی آواز سنی تو میں نے پہچان لیا اور آپ کی گفتگو سننے کیلے کھڑا ہو گیا۔
اور میں نے سنا آپ کہ رہے تھے امام کو ماں کی پیٹ میں غیب کا علم ہوتا ہے ہر چیز جانتا ہے؟
فلسفی: بے شک ایسا ہماری احادیث میں آیا ہے،فلسفی کا مقصد وہ اھادیث جو ﻋﻠﻢ ﺍﻣﺎﻡﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﺗﻮﻟﺪ ہے وہی تھا کہ آئمہ نور کے ستونون سے ہر چیز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں نے کہا اولا یہ بات قرآن سے متصادم ہے جہاں فرمایا:
»ﻭﺍﻟﻠﻪﺃﺧﺮﺟﻜﻢ ﻣﻦ ﺑﻄﻮﻥﺃﻣﻬﺎﺗﻜﻢ ﻻ ﺗﻌﻠﻤﻮﻥ ﺷﻴﺌﺎ]211 [ = ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺷﻤﺎ ﺭﺍ ﺩﺭﺣﺎﻟﻲ ﻛﻪ ﻫﻴﭻ ﭼﻴﺰﻧﻤﻲﺩﺍﻧﺴﺘﻴﺪ، ﺍﺯ ﺷﻜﻢﻣﺎﺩﺭﺍﻧﺘﺎﻥ ﺧﺎﺭﺝ ﺳﺎﺧﺖ «.
ﺛﺎﻧﻴﺎ اسی منبر پہ آُپ نے ﺻﺤﺮﺍﻱﻛﺮﺑﻼ سے متعلق بتایا کہ جس وقت ﻛﻪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ ﻛﻮﻓﻪ کی طرف ایک راستہ سے آنا چاہا تو ، ﺣﺮ ان کی راہ میں پہنچا اور امام کو کوفہ پہنچنے سے روکنے لگے۔ امام نے اس صورتحال کو دیکھ کر دوسرا رستہ اختیار کر لیا جہاں اس راستہ کو چھوڑ کر جہان حر مانع ہوا۔یہان تک کہ ایک جگہ پہنچا جہان امام کے گھورے نے قدم اٹھانا چھوڑ دیا۔امام نے گھورے کو مارا اور بہت کوشش کی لیکن گھورا آگے نہیں برھا،اور حرکت نہیں کی۔امام حیران ہوا کہ آخر یہ گھوڑا آگے حرکت کیوں نہیں کرتا امام کو ایک عربی وہن ملا تو اس کو آواز دی اور اس سے پوچھا :اس زمین کا ﻧﺎﻡکیا ہے؟ ﻋﺮﺏ نے ﺟﻮﺍﺏ دیاﻏﺎﺿﺮﻳﻪ )ﻗﺎﺫﺭﻳﻪ (، ﺍﻣﺎﻡﺣﺴﻴﻦ )ﻉ نے ( ﺳﺆﺍﻝ کیا:ﺩﻳﮕﺮ کیا نام ہےﺍ؟: ﺷﺎﻃﻲﺀﺍﻟﻔﺮﺍﺕ، ﺍﻣﺎﻡ نے پوچھا :ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻧﻴﻨﻮﺍ، ﺍﻣﺎﻡ ﭘﺮﺳﻴﺪ:ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻛﺮﺑﻼ، ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ ( نے فرمایا: ہاں میں نے اپنے نانا سے سنا ہے کہ فرمایا:
تمہاری خوابگاہ کربلا ہے۔
برقعی نے کہا:
میں یقینا کہتا ہوں کہ روضہ خوانی حرام ہے،اس کیلے امداد اور پیسے دینا حرام ہے ۔
آقای فلسفی:
کس لئے حرام ہے؟
برقعی:
میں نے کہا کہ روضہ خوانی میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ سب قرآن کے خلاف ہیں اور حقیقت میں یہ پیغمبر و آئمہ ع سے دشمنی کرنا ہے۔
ﺁﻗﺎﻱ ﻓﻠﺴﻔﻲ : کیا میرے لئے بھی! اور پوچھا کہ کیا ان کے منبر بھی حرام ہیں؟
برقعی:یقینا حرام ہے
فلسفی: کس لئے
میں نے ان کو سمجھانے کیلے کہا کہ آقای فلسفی کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک دن عاشورائ کے ایام میں آپ بازار میں منبر پر تھے؟؟
کہا:ہاں بے شک تھا
برقعی: اسی روز میں بازار چلا گیا تھا جب میں نے آپ کی آواز سنی تو میں نے پہچان لیا اور آپ کی گفتگو سننے کیلے کھڑا ہو گیا۔
اور میں نے سنا آپ کہ رہے تھے امام کو ماں کی پیٹ میں غیب کا علم ہوتا ہے ہر چیز جانتا ہے؟
فلسفی: بے شک ایسا ہماری احادیث میں آیا ہے،فلسفی کا مقصد وہ اھادیث جو ﻋﻠﻢ ﺍﻣﺎﻡﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﺗﻮﻟﺪ ہے وہی تھا کہ آئمہ نور کے ستونون سے ہر چیز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں نے کہا اولا یہ بات قرآن سے متصادم ہے جہاں فرمایا:
»ﻭﺍﻟﻠﻪﺃﺧﺮﺟﻜﻢ ﻣﻦ ﺑﻄﻮﻥﺃﻣﻬﺎﺗﻜﻢ ﻻ ﺗﻌﻠﻤﻮﻥ ﺷﻴﺌﺎ]211 [ = ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺷﻤﺎ ﺭﺍ ﺩﺭﺣﺎﻟﻲ ﻛﻪ ﻫﻴﭻ ﭼﻴﺰﻧﻤﻲﺩﺍﻧﺴﺘﻴﺪ، ﺍﺯ ﺷﻜﻢﻣﺎﺩﺭﺍﻧﺘﺎﻥ ﺧﺎﺭﺝ ﺳﺎﺧﺖ «.
ﺛﺎﻧﻴﺎ اسی منبر پہ آُپ نے ﺻﺤﺮﺍﻱﻛﺮﺑﻼ سے متعلق بتایا کہ جس وقت ﻛﻪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ ﻛﻮﻓﻪ کی طرف ایک راستہ سے آنا چاہا تو ، ﺣﺮ ان کی راہ میں پہنچا اور امام کو کوفہ پہنچنے سے روکنے لگے۔ امام نے اس صورتحال کو دیکھ کر دوسرا رستہ اختیار کر لیا جہاں اس راستہ کو چھوڑ کر جہان حر مانع ہوا۔یہان تک کہ ایک جگہ پہنچا جہان امام کے گھورے نے قدم اٹھانا چھوڑ دیا۔امام نے گھورے کو مارا اور بہت کوشش کی لیکن گھورا آگے نہیں برھا،اور حرکت نہیں کی۔امام حیران ہوا کہ آخر یہ گھوڑا آگے حرکت کیوں نہیں کرتا امام کو ایک عربی وہن ملا تو اس کو آواز دی اور اس سے پوچھا :اس زمین کا ﻧﺎﻡکیا ہے؟ ﻋﺮﺏ نے ﺟﻮﺍﺏ دیاﻏﺎﺿﺮﻳﻪ )ﻗﺎﺫﺭﻳﻪ (، ﺍﻣﺎﻡﺣﺴﻴﻦ )ﻉ نے ( ﺳﺆﺍﻝ کیا:ﺩﻳﮕﺮ کیا نام ہےﺍ؟: ﺷﺎﻃﻲﺀﺍﻟﻔﺮﺍﺕ، ﺍﻣﺎﻡ نے پوچھا :ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻧﻴﻨﻮﺍ، ﺍﻣﺎﻡ ﭘﺮﺳﻴﺪ:ﺩﻳﮕﺮ ﭼﻪ ﺍﺳﻤﻲﺩﺍﺭﺩ؟ﮔﻔﺖ: ﻛﺮﺑﻼ، ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ)ﻉ ( نے فرمایا: ہاں میں نے اپنے نانا سے سنا ہے کہ فرمایا:
تمہاری خوابگاہ کربلا ہے۔
اس کے بعد میں نے فلسفی سے پوچھا:
آقای فلسفی یہ ایک امام جن کے بارے میں آپ منبر پر کہ رہے تھے کہ ہر چیز کو جانتا ہے مان کی پیٹ سے ہی،اور قرآن پڑھتا ہے(بغیر معلم کے)،کیسے ایسا ہو گیا کہ امام سے پہلے اس کے گھوڑے کو معلوم ہوا کہ یہ سر زمین کونسی ہے؟اور امام کو بعد میں؟
یہاں تک کہ امام کو ایک عربی سے پوچھنا پرا کہ یہ کونسی جگہ ہے؟
ﺟﻨﺎﺏ ﻓﻠﺴﻔﻲ یہ کیسا امام آپ نے گھڑہ لیا ہے ﻛﻪ ﻧﻌﻮﺫ ﺑﺎﻟﻠﻪ اس سے قبل اس کا گھورا مطلع ہوتا ہے؟
کیا یہی حب آئمہ ہے؟
کیا یہی معارف اسلام ہے؟ کیوں آپ احادیث پہ غور و تدبر نہیں کرتے ؟؟"
آقای فلسفی یہ ایک امام جن کے بارے میں آپ منبر پر کہ رہے تھے کہ ہر چیز کو جانتا ہے مان کی پیٹ سے ہی،اور قرآن پڑھتا ہے(بغیر معلم کے)،کیسے ایسا ہو گیا کہ امام سے پہلے اس کے گھوڑے کو معلوم ہوا کہ یہ سر زمین کونسی ہے؟اور امام کو بعد میں؟
یہاں تک کہ امام کو ایک عربی سے پوچھنا پرا کہ یہ کونسی جگہ ہے؟
ﺟﻨﺎﺏ ﻓﻠﺴﻔﻲ یہ کیسا امام آپ نے گھڑہ لیا ہے ﻛﻪ ﻧﻌﻮﺫ ﺑﺎﻟﻠﻪ اس سے قبل اس کا گھورا مطلع ہوتا ہے؟
کیا یہی حب آئمہ ہے؟
کیا یہی معارف اسلام ہے؟ کیوں آپ احادیث پہ غور و تدبر نہیں کرتے ؟؟"
(سوانح ایام آیت اللہ برقعی قمی) یقینا یہ آقای فلسفی ایک بہترین واعظ تھا،اور ان جیسا کوئی اہل منبر نہیں تھا جو اپنی بات کو اچھی طرح پہنچائے۔
” ﺍﺳﻼﻡ کے نزدیک ﺷﻌﺎﺋﺮ ﺩﯾﻨﯽ اللہ کا بنایا ھوا ھے. اﻭ ﺧﺪﺍ کے ﺩﺳﺘﻮﺭ کردہ چیزوں پر منحصر ھے اور محدور. لیکن فرقے کے ھاں ﺷﻌﺎﺋﺮﻣﺬﻫﺒﯽ ﻣﻦ پسند اور خودساختہ ھوتے ھیں، ﺷﻌﺎﺋﺮ ﺍﻟﻠﻪ کی بجائے شعائر الناس بہت زیادہ ھیں، جیسے سونے کاﮔﻨﺒﺪ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮنا، ﺑﺎﺭﮔﺎﻩ بنانا، اور ﻋﻠﻢ ﻭ گھوڑا ،کتل اور ﺳﯿﻨﻪ زنی ﻭ ﺯﻧﺠﯿﺮ زنی اور..ﺷﻤﻊﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮنا، اﻭر ﺩﻭﺭ ﻗﺒﺮوں کے طواف پر جانا اور اس کے مثل دوسری چیزیں، اﻭرﺣﺘﯽ کہ ﺍﮔﺮ کوئی شخص ان خودساختہ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﻣﺬﻫﺒﯽ..کی ﺗﻮﻫﯿﻦ کرے تو وہ ان کے نزدیک ﻣﻮﺟﺐﻗﺘﻞ ھے، اﻭر ﻗﺎﺗﻞ ﻗﺼﺎﺹ سے مستثنی ھے!!!”
آیت اللہ العظمی ابوالفضل ابن الرضا برقعی رضوی قمی،کتاب مفاتیح الجنان وقرآن،عنوان دین اور فرقہ میں فرق.
"اسلام جب پھیلا اور سارے اهل کتاب و اور دیگر ادیان سے میل جول بڑھ گیا تو قریب قریب دوسری صدی میں ان مذاہب کے غلو آمیز افکار اسلام میں سرایت کر گیا۔ اور دین کے دکانداروں نے اپنے فائدہ اور نفع و تجارت کی خاطر ان خرافات کو ترویج دیا یہاں تک کہ آئمہ ع کے لعنت کا مستحق بنے۔ ان کے بعد باطنیّه و صوفیّه و شیخیّه آئے اور ان تمام عقائد باطله کو رنگ و روغن پہنچایا اور لوگوں کے درمیان مذهب کے نام پر نشر کیا۔ اور دوسری طرف دانشمندون کے دل میں بھی درد نہیں تھا کہ ان کے ہاتھ روکے اور حقائق اسلام کے دفاع میں خودکو خطرہ میں ڈالتے. یہاں تک کہ اس حد تک چلے گئے کہ لوگ صفات خدا کو هر امام و مرشداور حتّی کہ هر سلطان و وزیر کے حق میں شمار کرنے لگے، اور بطور کلّی اسلام، حق کو باطل کے ہاتھوں بیچ دیا، توحید کی جگہ شرک آیا، قبلہ کی بجائے اور قبلہ کے مقابل گنبد اور بارگاه آگئے، قرآن کو بیان کرنے کی بجائے روضهخوانی آیا، نماز جمعه اور شوکت اسلامی کی حفاطت کی بجائے دعای ندبه و گریه و زاری و توسّل آیا ، جہاد کی بجائے سینهزنی و زنجیرزنی آیا. اور اصول و فروع اسلام میں یا تو کمی کی یا بڑھا دیا. عجیب یہ ہے که کہا کہ فروع اسلام کی بجائے اپنی طرف سے کوئی چیز اس میں داخل کیا اور حلال و حرام بھی بڑھا دئے کہ جیسا کہ اللہ نے فرمایا
{وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} سورة المائدة(44).
یعنی ہر شخص جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف کرےوہ کافر ہیں، لیکن عقائد و اصول عقائد اهمیّت نہیں دیا هر شخص جو چاہتا دین میں داکل کرتا. ایک حدیث «قولوا فی حقّنا ما شئتم» "ہمارے متعلق جو تم چاہو کہ دو۔"کو آگے کیا اور ہر خرافات کو اسلام میں مذہب کے نام پر داخل کیا اور جو ان کے دلوں نے چاہا، انہوں نے وہی کہا۔"
درسی از ولایت ،صفحہ 143
آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی
” ﺍﺳﻼﻡ کے نزدیک ﺷﻌﺎﺋﺮ ﺩﯾﻨﯽ اللہ کا بنایا ھوا ھے. اﻭ ﺧﺪﺍ کے ﺩﺳﺘﻮﺭ کردہ چیزوں پر منحصر ھے اور محدور. لیکن فرقے کے ھاں ﺷﻌﺎﺋﺮﻣﺬﻫﺒﯽ ﻣﻦ پسند اور خودساختہ ھوتے ھیں، ﺷﻌﺎﺋﺮ ﺍﻟﻠﻪ کی بجائے شعائر الناس بہت زیادہ ھیں، جیسے سونے کاﮔﻨﺒﺪ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮنا، ﺑﺎﺭﮔﺎﻩ بنانا، اور ﻋﻠﻢ ﻭ گھوڑا ،کتل اور ﺳﯿﻨﻪ زنی ﻭ ﺯﻧﺠﯿﺮ زنی اور..ﺷﻤﻊﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮنا، اﻭر ﺩﻭﺭ ﻗﺒﺮوں کے طواف پر جانا اور اس کے مثل دوسری چیزیں، اﻭرﺣﺘﯽ کہ ﺍﮔﺮ کوئی شخص ان خودساختہ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﻣﺬﻫﺒﯽ..کی ﺗﻮﻫﯿﻦ کرے تو وہ ان کے نزدیک ﻣﻮﺟﺐﻗﺘﻞ ھے، اﻭر ﻗﺎﺗﻞ ﻗﺼﺎﺹ سے مستثنی ھے!!!”
آیت اللہ العظمی ابوالفضل ابن الرضا برقعی رضوی قمی،کتاب مفاتیح الجنان وقرآن،عنوان دین اور فرقہ میں فرق.
"اسلام جب پھیلا اور سارے اهل کتاب و اور دیگر ادیان سے میل جول بڑھ گیا تو قریب قریب دوسری صدی میں ان مذاہب کے غلو آمیز افکار اسلام میں سرایت کر گیا۔ اور دین کے دکانداروں نے اپنے فائدہ اور نفع و تجارت کی خاطر ان خرافات کو ترویج دیا یہاں تک کہ آئمہ ع کے لعنت کا مستحق بنے۔ ان کے بعد باطنیّه و صوفیّه و شیخیّه آئے اور ان تمام عقائد باطله کو رنگ و روغن پہنچایا اور لوگوں کے درمیان مذهب کے نام پر نشر کیا۔ اور دوسری طرف دانشمندون کے دل میں بھی درد نہیں تھا کہ ان کے ہاتھ روکے اور حقائق اسلام کے دفاع میں خودکو خطرہ میں ڈالتے. یہاں تک کہ اس حد تک چلے گئے کہ لوگ صفات خدا کو هر امام و مرشداور حتّی کہ هر سلطان و وزیر کے حق میں شمار کرنے لگے، اور بطور کلّی اسلام، حق کو باطل کے ہاتھوں بیچ دیا، توحید کی جگہ شرک آیا، قبلہ کی بجائے اور قبلہ کے مقابل گنبد اور بارگاه آگئے، قرآن کو بیان کرنے کی بجائے روضهخوانی آیا، نماز جمعه اور شوکت اسلامی کی حفاطت کی بجائے دعای ندبه و گریه و زاری و توسّل آیا ، جہاد کی بجائے سینهزنی و زنجیرزنی آیا. اور اصول و فروع اسلام میں یا تو کمی کی یا بڑھا دیا. عجیب یہ ہے که کہا کہ فروع اسلام کی بجائے اپنی طرف سے کوئی چیز اس میں داخل کیا اور حلال و حرام بھی بڑھا دئے کہ جیسا کہ اللہ نے فرمایا
{وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} سورة المائدة(44).
یعنی ہر شخص جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف کرےوہ کافر ہیں، لیکن عقائد و اصول عقائد اهمیّت نہیں دیا هر شخص جو چاہتا دین میں داکل کرتا. ایک حدیث «قولوا فی حقّنا ما شئتم» "ہمارے متعلق جو تم چاہو کہ دو۔"کو آگے کیا اور ہر خرافات کو اسلام میں مذہب کے نام پر داخل کیا اور جو ان کے دلوں نے چاہا، انہوں نے وہی کہا۔"
درسی از ولایت ،صفحہ 143
آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی
//////
والسلام علی من اتبع الھدی
والسلام علی من اتبع الھدی

No comments:
Post a Comment