• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    آیت اللہ برقعیؒ،شہادتین کا اقرار کرنے والا مسلمان ہے

    شروع کرتا ہوں اللہ عزوجل شانہ کے نام سے
    مترجم کتاب(برقعی) نے سالوں سال ایران کے مذہبی پیشواؤں کی جانب سے محافل و مجالس میں حجاز میں موجود وہابی فرقہ کے بارے میں بدگوئی اور لعن و طعن سنتا رہا ہوں۔اور جس طرح شیعہ اپنے علمائے میں سے کسی عالم کے مقلد ہیں بالکل اسی طرح حجاز(سعودی عرب) والے فروع دین میں محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کرتے ہیں۔اسی لیے ان کو وہابی کہا جاتا ہے۔حالانکہ محمد بن عبدالوہاب نے خود کو کبھی وہابی نہیں کہا بلکہ خود کو مسلمان ہی کہلاتے تھے۔اور محمد بن عبدالوہاب ایک عالم دین تھے جنہوں نے بارہویں صدی ہجری کے شروع میں مسلمانوں میں موجود شرک اور بدعات کو دور کرنے کے لیےقیام کیا اور ان چیزون کے خلاف کھڑے ہوگئے۔اور ایک گروہ کو اپنے اصلاحی نظریات کی طرف دعوت دی۔مسلمان فرقوں نے اس کی باتون کو ماننے والوں کو 'وہابی ' کا لقب دیا۔ایران میں ہر وہ سچے بزرگ اور عالم دین جو لوگوں کو حقائق قرآن،اسلام اور توحید بیان کرے یا دین میں موجود کسی بدعت کو وہ رد کرتا ہے تو اس پر فورا وہابی ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے۔اور اس کے رد پر دلائل نہیں لاتے سوائے اس کے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور اس پر تشددد کرتے ہیں۔
    میں خود تعجب کرتا ہوں اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ وہ شخص جو قرآن کے حقائق بیان کرے اسے کیا وہابی کہا جائے؟آخر وہابیوں کے عقائد کیا ہیں جو ہم قبول نہیں کرسکتے؟ کیا محمد ص اور علی بن ابی طالب اور تمام نامور بزرگان دین قرآن سے تمسک کرنے والے نہیں تھے؟
    ہمارے اس زمانے میں بہت سارے علماء دین کے معاملے میں روشن فکر ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی انہوں نے کسی دینی حقائق مین سے کسی حقیقت سے پردہ فاش اٹھایا اور لوگون کو توحید اور قرآن سے آگاہ کیا،تو لوگون نے اس کو فورا وہابیت کا بہانہ بنا کر اس کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔اور عوام کو اس کے خلاف ہمیشہ بھڑکایا۔جیسے آیت اللہ بزرگ حاجی سید اسد اللہ خرقانی،آیت اللہ خالصی زادہ،اور نابہک کبیر شریعت سنگلجی ،آیت اللہ وحید الدین مرعشی نجفی،آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم ،اور حجت الاسلام والمسلمین آغا سید جلال جلالی قوچانی اور دیگر بہت سارے لوگ،اللہ ایسے لوگ مزید پیدا کرے،کثراللہ تعالی امثالھم۔
    پس انسان اس قعدے کے مطابق کہ الانسان حریص علی ما منع،انسان اسی چیز کی جستجو کرتا ہے جس چیز سے روکا جاتا ہے۔میں نے بھی جستجو شروع کی اور تحقیق کی اور مین نے دیکھا کہ 'وہابی جماعت' کیا کہتی ہے؟اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ اگر واقعی مین وہ لوگ مسلمان ہیں تو پھر ان کا خون اور ان کے مال و عرض و آبرو کی حفاظت واجب اور ان کی بدگوئی اور غیبت کرنا حرام ہے۔کیونکہ رسول اللہ ص نے فرمایا
    مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرے اور موحد نہ بنے۔اور فرمایا عرض المسلم کدمہ
    یعنی مسلمان کی عزت و آبرو اس کے خون کی طرح (حرام)ہے۔

    یعنی جس طرح کسی مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کی آبرو برباد کرنا بھی نیز گناہ کبیرہ ہے۔
    بہت افسوس کا مقام تھا کہ کہ ایران میں کوئی وہابی نہیں رہتا تھا کہ میں اس سے جا کر تحقیق کر سکوں اور نہ ان کی کوئی کتاب مجھے پڑھنے کو ملی۔یہاں تک کہ سال 1352 شمسی کو مجھے اللہ تعالی نے حج بیت اللہ الحرام کی توفیق دی۔اور مدینہ منورہ میں رسول اللہ ص کی زیارت کے لیے جب میں گیا تو مجھے وہاں ایک کتاب دیکھنے کو ملی جس کا عنوان یہ تھا'العقیدہ الاسلامیہ لشیخ محمد ب عبدالوہاب' ۔میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہر شخص کے عقیدہ کو خود اس سے پوچھ کر یا ان کی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کرنا چاہیے اوردوسرے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ دوسرا شخص کسی شخص یا کسی کے عقیدے کے متعلق کم یا زیادہ یا تحریف کر کے غلط معلومات دے سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے غلط بیانی بھی کر سکتا ہے۔پس بہتر یہ ہے کہ خود اس شخص(محمد بن عبدالوہاب) کی کتاب جو اس مذہب کے بانی و مرجع ہیں ،اس کا مطالعہ کروں تاکہ اس کے اور اس کے پیروکاروں کے عقائد کو میں جان سکوں۔
    بہرحال میں نے وہ کتاب پڑھنے کے لیے پکڑی اور جب میرے کچھ دوستوں نے میرے پاس یہ کتاب دیکھی تو مجھ سے درخواست کرنے لگے کہ چونکہ ہم وہابیوں کے عقائد کے متعلق جانتے نہیں اس لیے اس کتاب کا ترجمہ سادہ(فارسی زبان) میں بغیر کمی بیشی کے کر دی جائے اور اگر ہو سکے تو مختصر توضیح بھی لکھ دیں تاکہ ہم بھی جان سکیں۔اسی لیے اسی لیے میں نے مختصر توضیح بھی اس کتاب کی لکھی ہے۔اور یہ کتاب عقیدہ اسلامی تین(3) رسالون پر مشتمل ہے جو خود محمد بن عبدالوہاب کی ہے سال 1390 قمری مین شائع ہوا تھا اور تقریبا 63 صاحکت پر مشتمل تھا۔
    پہلا رسالہ خدا شناسی،دین اور پیغمبر شناسی پر مشتمل تھا۔دوسرا رسالہ صحیح راستہ کا بیان اور دین حنیف ملت ابراہیمی کے متعلق تھا اور تیسرا رسالہ ان لوگوں کی شبہات کے رد میں تھا جو انہون نے اسلام اور توھید کے متعلق کیے تھے اور ان کو جوابات بھی دیے گئے تھے۔
    محمد بن عبدالوہاب کی اس کتاب کا(فارسی) ترجمہ لکھنے اور اس کو شائع کرنے کا میرا مقصد بس یہی ہے کہ لوگ جان سکیں کہ آج کا دور تفرقہ اور نفاق کا زمانہ نہیں ہے۔اور مسلمانون کے فرقون میں سے ہر فرقہ پر واجب ہے کہ وہ نزاع اور جدل اور ایک دوسرے کی بدگوئی کرنے سے پرہیز کرے اور استعماری ایجنٹوں کے ہاتھون کھلونا اور ابراز نہ بن سکیں۔آج جب مسلمان تفرقہ( فرقہ واریت) اور تشتت کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہین اور دشمنان اسلام نے ان کے دمیان رخنہ اور پھوٹ ڈال دیا ہے۔اور ان کی دین و آبرو اس وقت سخت خطرے مین ہے۔مسلمانون کو چاہیے کہ وہ آپس مین متحد ہو جائے اور آل محمد ص کی ولایت کے نام پر بے چاری عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نہ بھڑکائیں۔آج تمام مسلمان حتی اہل سنت کا متعصب طبقہ(متعصب سنی جن کو کہا جاتا ہے) وہ بھی آل محمد ص سے محبت رکھتے ہیں۔اور امیرالمؤمنین علی بن ابو طالب ع کی محبت اور حضرت فاطہ زہراء ع کی اولاد پر وہ بھی فخر کرتے ہیں۔آل محمد ص کے حقیقی محب اور دوست وہ ہیں جو امت میں تفرقہ نہ پھیلائیں۔اور دوسرے مسلمانون کے خلاف فھاشی(گالی دینے) اور بدگوئی سے بھی پرہیز کریں۔اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ص کہنے والوں کو خود سے الگ نہ کریں۔اور تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی سمجھیں اور آیت شریفہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کو مد نظر رکھے۔وہ اہل بیت ع کے سچے محب ہر گز نہیں جو تفرقہ بازی کرین ،مسلمانون کو ایک دوسرے سے بد بین کرے۔اور علمی یا دینی مسئلے میں کسی غلطی کی وجہ سے فورا تکفیر کرے۔اور اس پر لعنت کرے یا اس کو فاسق قرار دے کر کود سے جدا کریں۔اور جال و جنجال کی راہ پیدا کرے۔بلکہ آپس میں نرمی و خیرخواہی اور علمی و قرآنی دلائل سے ایک دوسرے کو جواب دے۔اور اختلافات باہمی کو کم کرے۔نہ کہ یہ شیوہ ہو جس طرح کہ بعض صاحبان منبر کرتے ہیں کہ کسی کی بدگوئی کریں اور افتراء باندھے اور مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا سہارا لیں۔بہت سارے خطیبوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ عقل نہیں رکھتے یعنی بغیر مطالعہ کے وہ جھوٹ بولتے ہین۔
    پس ہمارا مقصد اور ہدف اِس فرقے اور اس فرقے کی طرف دعوت دینا نہیں۔ہم مسلمان ہین اور ہماری دعوت خدا و رسول اور قرآن و اسلام ہے۔آج تمام مسلمان فرقے قرآن کو مانتے ہیں اور قرآن کو اپنی الہامی کتاب مانتے ہیں۔میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے ہر فرقے سے محبت رکھتا ہوں اور حق بات ان فرقون میں سے جو بھی فرقہ کرے اس کو قبول کرتا ہوں۔اور عداوت و عناد سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کہ تمام مسلمان فرقون کو چاہیے کہ خود کو مسلمان نام دین اور جب اللہ نے سورہ یونس آیت نمبر 72 میں فرمایا کہ:
    وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
    اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مسلمان رہوں

    نیز ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ ص کی تاسی کرتے ہوئے خود کو صرف مسلمان کہیں اور نامون اور مذاہب(فرقوں) سے جو کہ فرقہ واریت کی وجہ ہیں خود کو دور اور الگ کر لیں۔پس مسلمان فرقوں میں سے ہر فرقے کو چاہیے کہ وہ خود کو تعصب سے دور کر لین اور خود کو صرف مسلمان کہلوائیں تو وحدت اور اتحاد کا ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور لا اقل تمام مسلمانوں کی فرقوں کے نام پر تکفیر بھی نہ کی جائے۔
    وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
     اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا( آل عمران 85 )
    بہرحال میں نے محمد بن عبدالوہاب کے اس رسالہ کے مندرجات کو قرآن و سنت رسول ص کے برخلاف نہیں دیکھا۔اور اس میں کسی کو گالی اور لعنت مجھے نہیں ملا۔ اور ان کے عقائد ایسے نہیں کہ مجھے ان کے باطل ہونے پر دلیل لانے کی ضرورت پڑے۔بلکہ ان کی کتاب کو مین نے کتاب اللہ اور سنت رسول ص کے عین مطابق پایا۔ اور اگر پھر بھی کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان رسائل(عقیدہ اسلامی) کے مطالب باطل اور یا پھر قرآن مجید کے خلاف ہیں تو اس کو چاہیے کہ سب و لعن کرنے کی بجائے دلائل پیش کرے۔
    اللہ تعالی نے سورہ الانعام آیت 108 میں فرمایا
     وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
     اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔
    اس شخص پر سب اور اس کی بدگوئی نہ کرے جو کہ غیر اللہ کو پکارے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں اللہ کو گالی دے۔
    اس آیت مین اللہ تعالی نے مشرکین کو گالی دینے یا سب کرنے سے منع فرمایا ہے۔پس جو شخص اہل بیت رسول ص کی مھبت اور دوست ہونے کا دعوی کرتا ہو بھلا کیسے وہ دوسرے مسلمان فرقون کی بدگوئی کرتا ہے؟ امیرالمؤمنین علی بن ابوطالب ع کے متعلق نہج البلاغہ خطبہ نمبر 204 میں ذکر ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب مین سے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ لشکر معاویہ کی بدگوئی کر رہا ہے تو آپ کرم الله وجہہ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا اور کہا:

    إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ وَ لَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي اَلْقَوْلِ وَ أَبْلَغَ فِي اَلْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ اَللَّهُمَّ اِحْقِنْ دِمَاءَنَا وَ دِمَاءَهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَ بَيْنِهِمْ

    میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے لگو_ بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اور حالات کو بیان کرو تا کہ بات بھی درست ہو اور حق کی حجت بھی تمام ہو جائے،نیز یہ دعا کرو کہ اے الله ہمارا اور ان کا خون محفوظ فرما اور معاملات کی اصلاح کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستے پر لگا۔

    بہرحال شہادتین (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا اقرار کرنے والے کو گالی دینا اور بدگوئی کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔اور ایسا کرنا استعمار کی خوشی کا سبب ہے۔اگر فرض کریں کہ صدر اسلام میں ایک گروہ نے یزید کی طرح اپنی ریاست کو بچانے کے لیے مومنین سے دشمنی کی،تو آج کے مسلمانوں کا کیا قصور ہے( کہ ہم ان دور حاضر کے مسلمانون سے دشمنی رکھین اور ان کی بدگوئی کریں)؟ گزری ہوئی تاریخ کو بہانہ اور بنیاد بنا کر ہرگز ایک دوسرے کے جانی دشمن ہمیں نہیں بننا چاہیے۔ اللہ تعالی نے سورہ بقرہ آیت نمبر 141 مین فرمایا ہے:

    تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
     یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
    (تحریر: آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی رضوی،تہران )

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel