عید اور عزاداری
چونکه ربیع الاول کا مهینه هے اور اسلامی فرقے اس میں جشن عید میلاد النبی مناتے هیں.اسی حوالے سے کسی فرینڈ نے سوال کیا تھا که کیا یه بات درست هے که آیت الله برقعی عید میلاد منانے کو بدعت سمجھتے تھے?
همارا جواب
*********
برادر اسلامی,آپ نے جو سوال کیا هے اور جو پوچھا هے اس کا جواب یهی هے که مرحوم آیت الله برقعی کسی بھی نبی ص یا کسی ولی یا کسی امام ع کی ولادت پر جشن اور موت پر ماتم کو بدعت سمجھتے تھے.چنانچه اپنی کتاب رهنمود سنت در رد اهل بدعت صفحه نمبر 433 پر لکھتے هیں:
*********
برادر اسلامی,آپ نے جو سوال کیا هے اور جو پوچھا هے اس کا جواب یهی هے که مرحوم آیت الله برقعی کسی بھی نبی ص یا کسی ولی یا کسی امام ع کی ولادت پر جشن اور موت پر ماتم کو بدعت سمجھتے تھے.چنانچه اپنی کتاب رهنمود سنت در رد اهل بدعت صفحه نمبر 433 پر لکھتے هیں:
در اسلام مقرر نشده که برای تولد هر بزرگواری جشن گیرند،و برای وفات او عزاداری کنند.علی علیه السلام در زمان خلافت خود که تقریبا پنج سال بود برای وفات رسول خدا ص که معلم عزیز و بزرگترین محبوب او بود روز وفات او را عزا و روز تولدش را جشن نگرفت،شما شیعیان چرا این بدعت ها را معمول کرده اید؟...............در صورتیکه شرعا از تمام این اعمال نهی شده است
یعنی اسلام نے یه مقرر نهیں کیا که هر بزرگ کی ولادت یا پیدایش پر جشن منایں,اور اس کی وفات پر عزاداری برپا کرے.علی ع جن کی خلافت کی مدت تقریبا 5 سال تھا انهوں نے رسول ص جو که آپ ع کے عزیز استاد اور سب سے بڑے محبوب تھے,ان کی وفات کے دن کو عزاداری یا ان کی ولادت کے دن جشن نهیں منایا.تم لوگوں نے کیسے ان بدعات کورواج دیا هے ؟......شریعت کی رو سے یه تمام کام منع هیں.
آیت الله العظمی سید ابوالفضل برقعی رضوی قمی,کتاب رهنمود سنت در رد اهل بدعت صفحه 433

No comments:
Post a Comment