اصل بات یہی ہے کہ صدر اول میں کون امامت کے اہل تھے کون نہیں اس کا کوئی ربط یا تعلق ہی نہیں ہے دسویں صدی اور پندھرویں صدی ہجری کے مسلمانوں سے،اللہ نے فرمایا:
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( بقرہ 1344)
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( بقرہ 1344)
اے دور حاضر کے امت کے مسلمان شیعو!! کیا آج کے دور میں امامیہ کی حکومت جو ایران مین ہے،کیا یہ پہلی حکومتون سے یہ حکومت سنگدل ترین اور سب سے بےرحم حکومت نہیں ہے؟ یہتمہارے بیٹوں کو (انقلاب کے مخالفین کہ کر)قتل کرتے ہیں ،اور درآمد و بآمد کی چیزیں تمہارے اختیار میں نہیں ہیں۔بلکہ تمہاری حکومت کے اختیار میں ہیں۔اموال،پراپرٹی،گھر حتی حج اور تمہارے اپنے معاملات بھی محفوظ نہیں ہیں بلکہ ان سب پر تمہاری اس حکومت کا اختیار ہے۔مطبوعات کو غائب کرتے ہیں اور حقائق دین بیان کرنا منع ہے،اگر تم قوت یا عقل و ارادہ رکھتے ہو تو اپنی اس حکومت کی اصلاح کرو۔کیونکہ جو حکومت
صدر اسلام کی،گزر چکی ہے تم تبدیل نہیں کرسکتے۔کیا تم اس گذری ہوئی حکومتون سے بدلہ لے سکتے ہو؟؟کیا تم ابوبکر و علی ع کو زندہ کر سکتے ہو اور ابوبکر کو حکومت سے معزول کر کے علی عکو حکومت دے سکتے ہو؟؟ کیا ان کے کامون کے متعلق ہم مسؤول،ذمہ دار،ہیںََ؟؟فرض کریں علی ع حکومت کے لیے اس دور میں سب سے زیادہ موزون یا لائق تھا لیکن اس چیز کا ہمارے اس زمانے سے کیا تعلق؟؟پس پہلے زمانے کے امامت و خلافت کے جھگڑے کو پھیلانا سوائے حماقت اور بے وقوفی کے کچھ نہیں۔لوگوں میں سے جاہلوں کو اس کام میں لگا دیا ہے،اور مسلمان آپس میں دست و گریبان ہیں،حالانکہ جھوٹ،خرافات اور شرپسندی پر مبنی روایات گھڑی گئی ہیں اہل بیت ع و عترت کے نام پر مسلمانوں کے درمیان نفاق و دشمنی کی آگ بڑھکا دی گئی ہے حالانکہ اہل بیت نے کوئی مذہب(یعنی فرقہ) نہیں بنایا اور ایسے بدعت گزار لوگوں سے اہلبیت ع بیزار ہیں۔
آیت اللہ برقعی،کتاب نقد المراجعات

No comments:
Post a Comment