اللہ تعالی مسلمانوں کو بیدار کرے،اور ان کو مذہب کے تاجروں سے نجات عطا کرے،حضرت علی ؑ کی خلافت کے اثبات یا رد میں اب تک لاکھوں کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں ،اور اب بھی مسلمانوں کو انہی کاموں میں مشغول رکھا جا رہا ہے۔اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور نفرت پیدا کی گئی ہے۔حالانکہ اگر علی ؑ خلیفہ تھے یا نہیں تھے،تو ان کے خلیفہ ہونے
یا نہ ہونے سے اس دور میں ہمیں کیا فائدہ ہے؟ان کا خلیفہ اول ہونا یا بعد میں خلیفہ بننا اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے۔سمجھنا چاہیے کہ یہ تمام کام تفرقہ پیدا کرنے والوں کے لیے تو فائدہ مند ہے لیکن دیگر مسلمانوں کے لیے نقصاندہ ہے۔
کتاب رہنمود سنت
یا نہ ہونے سے اس دور میں ہمیں کیا فائدہ ہے؟ان کا خلیفہ اول ہونا یا بعد میں خلیفہ بننا اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے۔سمجھنا چاہیے کہ یہ تمام کام تفرقہ پیدا کرنے والوں کے لیے تو فائدہ مند ہے لیکن دیگر مسلمانوں کے لیے نقصاندہ ہے۔
کتاب رہنمود سنت

No comments:
Post a Comment