علم غیب اور انبیاء کرام ع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسا کہ میں نے اپنی کتاب خرافات وفور در زیارت قبور میں کہا ہے کہ قرآن کی رو سے انبیاء ع کا کام ابلاغ شریعت یا اس سے متعلقہ امور جن پر حجت کافی ہو وہ پہچانا ان کی ذمہ داری تھی ،اس کے علاوہ وہ علم غیب نہیں جانتے تھے۔اور وہ عالم ماکان ومایکون(جو ہوا اور جو ہوگا اس کا جاننے والا) نہیں تھے،جیسے حضرت یعقوب ع فلسطین میں ہو کر اپنے محبوب بیٹے یوسف ع کے متعلق خبر نہیں رکھتے تھے۔حضرت نوح ع یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی زندگی میں ان کی پیروی کرنے والے کیا کرتے تھے۔
قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (1122) الشعراء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسا کہ میں نے اپنی کتاب خرافات وفور در زیارت قبور میں کہا ہے کہ قرآن کی رو سے انبیاء ع کا کام ابلاغ شریعت یا اس سے متعلقہ امور جن پر حجت کافی ہو وہ پہچانا ان کی ذمہ داری تھی ،اس کے علاوہ وہ علم غیب نہیں جانتے تھے۔اور وہ عالم ماکان ومایکون(جو ہوا اور جو ہوگا اس کا جاننے والا) نہیں تھے،جیسے حضرت یعقوب ع فلسطین میں ہو کر اپنے محبوب بیٹے یوسف ع کے متعلق خبر نہیں رکھتے تھے۔حضرت نوح ع یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی زندگی میں ان کی پیروی کرنے والے کیا کرتے تھے۔
قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (1122) الشعراء
حضرت ابراہیم ع علیہ آلاف االتحیۃ والسلام بھی عذاب والے فرشتوں کو پہچان نہ سکے۔
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ (الذاریات 255)
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ (الذاریات 255)
اور جب تک ہدہد واپس خبر لے کر نہ آئے حضرت سلیمان کو قوم سبا کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ( النمل 222)
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ( النمل 222)
حضرت موسی ع کو یہ معلوم نہ تھا جب وہ واپس لوٹے کہ ان کا بھائی ہارون گاؤ پرستی میں قصور وار نہیں تھے۔
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (الاعراف 150)
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (الاعراف 150)
اور ان کے ہم سفر مچھلی کو بھول کر آیا ہے
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا ( الکہف 622) قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ( الکہف 63)
۔اور محمد سص کے سامنے جس نے خوبصورت باتین کی اس کے دل کے حالات سے آپ ص باخبر نہ تھے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ (البقرہ 2044) وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ( البقرہ205)
اور یہی وجہ تھی کہ آپ ص کو مدینہ کے اکثر منافقین کو آپ پہچانتے نہیں تھے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ (التوبہ 101)
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا ( الکہف 622) قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ( الکہف 63)
۔اور محمد سص کے سامنے جس نے خوبصورت باتین کی اس کے دل کے حالات سے آپ ص باخبر نہ تھے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ (البقرہ 2044) وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ( البقرہ205)
اور یہی وجہ تھی کہ آپ ص کو مدینہ کے اکثر منافقین کو آپ پہچانتے نہیں تھے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ (التوبہ 101)
پس اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک امام بندوں کے مافی الضمیرکو جان سکیں یا اس کا علم رکھے۔"
کتاب بت شکن،علامہ برقعی
علامہ نے 66 سفحات پر اس بحث کو اٹھایا ہے ،صرف تمہید کا ترجمہ آپ تک ہم پہنچا چکے۔
علامہ نے 66 سفحات پر اس بحث کو اٹھایا ہے ،صرف تمہید کا ترجمہ آپ تک ہم پہنچا چکے۔
No comments:
Post a Comment