آیت اللہ برقعی کی کتاب درسی از ولایت جب شائع ہوگئی تو تھران کے مساجد کے منبروں اور واعظ و خطباء سب نے علامہ برقعی کے خلاف بولنا شروع کیا کہ برقعی وہابی افکار کو پھیلا رہا ہے اور ان پر تہمتوں کے انبار لگائے لیکن خوش قسمتی سے آیت اللہ العطمی خوئی صاھب کے نمائندے حاج سید عبدالحمید ماکوئی نے برقعی کے افکار کی تائید کی اور ان سے رضامندی ظاہر کی۔لیکن دوسرے علما ء نے جب مجبور کیا اور برقعی و ماکوئی کے خلاف محاذ کھڑا کیا تو مجبورا ماکوئی صاحب بھی پیچھے ہٹ گئے۔
اور بعد میں علامہ برقعی کا تھران کے علماء شیخ ابوالقاسم محمدی قمی،شیخ مرتضی انصاری قمی کے ساتھ مناظرہ بھی ہوا جس کے بعد برقعی کو قید کیا گیا۔
تھران کے وہ قصیدہ خوان،ذاکرین اور علماء جنہوں نے منبروں سے آیت اللہ برقعی کے خلاف محاذ کھڑا کیا اور ان پر تہمتیں لگائیں وہ یہ ہیں:
حجت الاسلام شیخ جعفر خندق آبادی
حجت الاسلام شیخ قاسم اسلامی
حجت الاسلام شیخ سید مصطفی طباطبائی قمی
حجت الاسلام شیخ ڈاکٹر جواد مناقبی
حجت الاسلام شیخ حسن کافی
حجت الاسلام شیخ مھدی دولابی
حجت الاسلام شیخ احمد کافی
حجت الاسلام شیخ احمد رحمانی ہمدانی
حجت الاسلام شیخ حاج اشرف کاشانی
حجت الاسلام شیخ سید قاسم شجاعی
وغیرہ
اور بعد میں علامہ برقعی کا تھران کے علماء شیخ ابوالقاسم محمدی قمی،شیخ مرتضی انصاری قمی کے ساتھ مناظرہ بھی ہوا جس کے بعد برقعی کو قید کیا گیا۔
تھران کے وہ قصیدہ خوان،ذاکرین اور علماء جنہوں نے منبروں سے آیت اللہ برقعی کے خلاف محاذ کھڑا کیا اور ان پر تہمتیں لگائیں وہ یہ ہیں:
حجت الاسلام شیخ جعفر خندق آبادی
حجت الاسلام شیخ قاسم اسلامی
حجت الاسلام شیخ سید مصطفی طباطبائی قمی
حجت الاسلام شیخ ڈاکٹر جواد مناقبی
حجت الاسلام شیخ حسن کافی
حجت الاسلام شیخ مھدی دولابی
حجت الاسلام شیخ احمد کافی
حجت الاسلام شیخ احمد رحمانی ہمدانی
حجت الاسلام شیخ حاج اشرف کاشانی
حجت الاسلام شیخ سید قاسم شجاعی
وغیرہ
حوالہ: کتاب کتاب بررسی افکار و دیدگاھھای ابوالفضل برقعی تحقیق: محمد باقر نحوی

No comments:
Post a Comment