آیت اللہ برقعی کی مخالفت میں کتابیں لکھنے والے لوگوں کی ایک فہرست
آیت اللہ برقعی مرحوم اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ موروثی عقائد کے حامل علماء اور کم عقل طلباء کی ایک تعداد نے میرے خلاف کتابیں لکھیں یا پمفلٹ شائع کیے ان میں سے اکثر ایسے تھے جو دین کو کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے تھے۔اور وہ میری ہدایت کی خاطر دلائل سے بات کرنے کی بجائے فحاشی اور تہمت سے کام لے رہے تھے۔جن علماء یا طلباء نے علامہ برقعی کے خلاف کتب لکھیں ان کے نام یہ ہیں:
شیخ جعفر صبوری،
محمد علی انصاری،
مصطفی نورائی،
سیدهادی میلانی،
شیخ باقر زنجانی،
سید ابراهیم میلانی،
سید میر جهانی،
شیخ ذبیح الله محلاتی،
محمد مقیمی،
شیخ علی نمازی،
شیخ محلوجی،
علی رحیمی،
سید حسن حجت،
احمدی،
خندق آبادی،
شیخ رازی،
لطف الله صافی1 ،
رضا استادی،
بوق علیشاه درویش،
محمد علی كاظمینی،
بحرالعلوم،
ناصر مكارم،
عبدالرسول احقاقی،
معصومی،
احمد سیاح،
لنگرودی،
شیخ بابیری،
محمدهاشمی،
احمدی،
آشتیانی،
امامی،
ایمانی،
ایرانی،
اسدی،
اكبرتهرانی،
رفیعی قزوینی،
محسن شفائی،
امینی،
متانت،
شبستری،
علی دوانی،
مدرسی جاردهی،
مشكینی و.....وغیرہ
محمد علی انصاری،
مصطفی نورائی،
سیدهادی میلانی،
شیخ باقر زنجانی،
سید ابراهیم میلانی،
سید میر جهانی،
شیخ ذبیح الله محلاتی،
محمد مقیمی،
شیخ علی نمازی،
شیخ محلوجی،
علی رحیمی،
سید حسن حجت،
احمدی،
خندق آبادی،
شیخ رازی،
لطف الله صافی1 ،
رضا استادی،
بوق علیشاه درویش،
محمد علی كاظمینی،
بحرالعلوم،
ناصر مكارم،
عبدالرسول احقاقی،
معصومی،
احمد سیاح،
لنگرودی،
شیخ بابیری،
محمدهاشمی،
احمدی،
آشتیانی،
امامی،
ایمانی،
ایرانی،
اسدی،
اكبرتهرانی،
رفیعی قزوینی،
محسن شفائی،
امینی،
متانت،
شبستری،
علی دوانی،
مدرسی جاردهی،
مشكینی و.....وغیرہ
ماخوذ: سوانح ایام برقعی مولف آیت اللہ برقعی
No comments:
Post a Comment