• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    صرف شیعہ کتابوں یا شیعہ عقائد و عبادات پر کیوں لکھتے ہو؟آیت اللہ برقعی کا جواب


    "قارئین کرام،جیل کے اندر اور جیل سے باہر بھی اکثر مجھے اس کا سامنا رہا ہے یہاں تک کہ میں نے روایات پر تنقید کی ہے،پوچھتے ہیں کہ کیا سنیوں کی کتابوں مین بھی ایسی ویسی باتیں نہین ہیں،ان کے بارے میں کچھ کیوں نہیں کہتے ہو؟؟حالانکہ لا اقل علماء بخوبی جانتے ہیں کہ میں قم میں پیدا ہوا،اور قم اور نجف کے حوزہ ہای علمیہ میں میں نے اپنی زندگی گزاری ہے۔اما یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سنی عوام اور مدافع اہل سنت سے بھی مجھے وہ روک لیں۔
     اسی لیے کہ جب میں اللہ تعالی سے ملاقات کرنے(وفات پانے) سے زیادہ دور نہیں،تو اتمام حجت کی خاطر – لا اقلّ با اهل انصاف ۔تصریح و تاکید بلکہ اصرار کرتا ہوں کہ اللہ تعالی گواہ ہے کہ میں اہل سنت فرقوں میں سے کسی سے بھی تعصب نہین رکھتا ذرہ برابر بھی،اور میں بلاوجہ نہ سنی مصنفین کی طرح تمام احادیث صحیحین کو صحیح سمجھتا ہوں،بلکہ جناب برادر جلیل القدر مصطفی حسینی طباطبائی» - أیّده الله تعالی کی کتاب خیانت در گزارش تاریخ (چاپ أوّل، ج 1 ص 58-59) میں جیسے بعض اہل سنت علماء کی آراء کو کہ احادیث صحیحین میں سے ایک تعداد کے عدم صحیح ہونے کے متعلق بیان کیا ہے،میں برادر سے مکمل متفق ہوں اور کسی ایک اہل سنت فرقے سے مقید نہیں ہوں۔
    دوسرا یہ کہ بہت سے علمائے شیعہ جن میں آیت الله «محمد حسن مظفّر» و «هاشم معروف الحسنی» و «صادق نجمی» وغیرہ نے اہل سنت روایات پر تنقید کیے ہیں،حالانکہ صحاح ستہ ہم(ایران اور شیعوں ) میں رائج نہیں۔اور کوئی شخص ان کتابوں کے زیر اثر بھی نہیں۔بلکہ یہاں لوگ کلینی اور صدوق جیسوں کی کتابوں پر فریفتہ اور شیفتہ ہیں۔اگر میں اپنے لوگوں کے لیے صحیحین سے متعلق کہوں تو ایسا ہے جیسا کہ لیبیا،حرمین،مصر۔۔۔۔وغیرہ میں کوئی شخص الکافی اور تھذیب کی غلطیوں اور معائب کو بیان کرے حالانکہ ان ملکوں کے لوگوں کا ان کتابوں سے کچھ لینا دینا/واسطہ نہیں۔
    میری اہم اور ضروری شرعی ڈیوٹی یا ذمہ داری اور امر بالمعروف و نہی عن منکر کا تقاضہ یہ ہے کہ توجیہ و تاویل اور مکتب تشیع میں رائج خرافات کو چھپانے کی بجائے لوگوں کو من گھڑت چیزون کی اصلیت سے متعلق آگاہ کر دوں۔اور کلینی وغیرہ کی کتابوں پر اعتراضات اور خرافاتی جو خود کو اہل بیت ع کے متبع یا پیروکار کہتے ہیں ان کے مقابل میں اہل بیت ع کا دفاع کروں۔تاکہ إن شاء الله تعالی و بإذنه و توفیقه، میرا بھی شمار ان لوگوں میں نہ ہو جائے جن کے متعلق آیت میں ذکر ہے:
     إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ﴿سورہ البقرۃ ۱۵۹﴾
    ہم نے جو دلائل اور راہنمائی نازل فرمائی ہے، بے شک جو لوگ اسے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کتاب میں لوگوں کے لئے واضح کردی ہے چھپاتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ لعنت کرتے ہیں اور(دوسرے)لعنت کرنے والے لعنت کرتے۔
    دوسرا یہ کہ یہ کہتے ہیں ،غالبا یہ دفاع کرتے ہیں کہ ایک کتاب میں مجعول یا مجهول و ضعیف یا مرسل روایت کچھ موجود ہوں تو بھلا کیسے اس کی وجہ سے پوری کتاب بے اعتبار ہوجاتی ہے،صحیحین میں بھی باوجود یہ کہ بہت سی روایات کے موجود ہونے کے باوجود بھی لوگ اس کی تعریف و تمجید کرتے ہیں اور کل کتاب کو بے اعتبار نہیں کہتے۔
     ایسا کہنے والوں کو میں متوجہ کر دوں کہ بہت زیادہ فرق ہے ایک ایسی کتاب(یعنی صحیح بخاری)جس مین چار ہزار یا چھے ہزار احادیث ہون اور ان مین سے ایک سو دس(یعنی ہر سو مین سے دس) ضعیف ہوں،اور دوسری طرف ایسی کتاب (یعنی الکافی)ہو جس میں سولہ ہزار یا پندرہ ہزار اھادیث ہوں اور اس مین سے نو ہزار(یعنی سو میں سے 56 یا 60) صحیح نہ ہوں۔"
    . آیت اللہ برقعی رضوی،کتاب عرض اخبار اصول کافی المعروف بت شکن؛ کا مقدمہ

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel