اسلامی جمہوریہ کے نام پر بدترین سفاکیت آیت اللہ برقعی کے قلم سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجمہوری اسلامی کے ناہل عہدیدار کے نام سے آیت اللہ برقعی رضوی مرحوم اپنی کتاب سوانح ایام میں لکھتے ہیں
کہ:

" یہ جمہوری اسلامی کی اصطلاح بنو امیہ سے بھی بدتر ہے،نوجوانوں کی ایک تعداد جو جاہل ہیں اور اسلام و قوانین اسلام کا ذرہ برابر معلوم نہین یہ لوگوں پر مسلط ہوگئے ہیں۔یہ نوجوان کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے بلکہ جو ان کو ان کے بڑے یا لیڈر کہتے ہیں اس کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کو کسی قسم کی اذیت و آزار سے دریغ نہیں کرتے۔اور خود کو اسلام کا پاسدار(محافظ) کہتے ہیں۔یہ مغرور ہیں اور دھوکے میں ہیں کہ ہم حزب اللہ ہیں اور ہم ہی اسلام کو نافذ کرنے والے ہیں۔اور جو ہمارے بڑے حکم دینگے ہم اس کو بجا لائیں گے۔اور چاہے اس حوالے سے جو کرنے کا کہا جائے اسے درست سمجھتے ہیں۔
میری تو ہمیشہ خواہش تھی کہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے ،اور اس کی خاطر سالہا سال مین نے کوشش اور مبازرہ کیا،لیکن اب دعا کرتا ہوں کہ مولویوں کی حکومت قائم نہ ہو،کیونکہ اخوند اسلام اور حکومت اسلامی کے معنی سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر چھپاتے ہیں تاکہ اپنا فائدہ گھاتے میں نہ پرے۔۔۔۔۔علمائے سیستان و بلوچستان خاص طور پر عبدالرحیم ملازادہ صاحب جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ بھی حکومت کے عہدیداروں کی شرسے محفوظ نہیئں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ آغا آل اسحاق بھی لمبے عرصے سے جیل میں تھا(یاد رہے خمینی صاحب کے نظام حکومت کی تنقیدپر ان -علامہ اسماعیل آل اسحاق۔کی کتاب مشہور ہے،مشہور اصلاح پسند شیعہ عالم رہے)،آغا قریشی طالشی صاحب جن کے پاس میری ایک کتاب تھی اور طالش میں اہل سنت کے لیے ایک مدرسہ بنانے کے جرم میں عرصے سے قید تھا،مزید آغا زنگنہ اصفہانی ،آغا محمد تقی خجستہ و آقای عطائی لنگہ ای اور ورجان کے سابق امام جمعہ آغا حسینی قمی اور بہت سارے علماء جیل میں بند تھے اور تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اللہ ان سب کو اجر دے اور حکومتی کارندوں کے شر سے محفوظ رکھے۔"
برقعی اکثر جیل کے عہدیداروں سے اپنا جرم پوچھتے تو یہی جواب ملتا کہ ہمیں آپ کا جرم معلوم نہیں اوپر سے آرڈر ہے ،تہران سے۔
میری تو ہمیشہ خواہش تھی کہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے ،اور اس کی خاطر سالہا سال مین نے کوشش اور مبازرہ کیا،لیکن اب دعا کرتا ہوں کہ مولویوں کی حکومت قائم نہ ہو،کیونکہ اخوند اسلام اور حکومت اسلامی کے معنی سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر چھپاتے ہیں تاکہ اپنا فائدہ گھاتے میں نہ پرے۔۔۔۔۔علمائے سیستان و بلوچستان خاص طور پر عبدالرحیم ملازادہ صاحب جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ بھی حکومت کے عہدیداروں کی شرسے محفوظ نہیئں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ آغا آل اسحاق بھی لمبے عرصے سے جیل میں تھا(یاد رہے خمینی صاحب کے نظام حکومت کی تنقیدپر ان -علامہ اسماعیل آل اسحاق۔کی کتاب مشہور ہے،مشہور اصلاح پسند شیعہ عالم رہے)،آغا قریشی طالشی صاحب جن کے پاس میری ایک کتاب تھی اور طالش میں اہل سنت کے لیے ایک مدرسہ بنانے کے جرم میں عرصے سے قید تھا،مزید آغا زنگنہ اصفہانی ،آغا محمد تقی خجستہ و آقای عطائی لنگہ ای اور ورجان کے سابق امام جمعہ آغا حسینی قمی اور بہت سارے علماء جیل میں بند تھے اور تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اللہ ان سب کو اجر دے اور حکومتی کارندوں کے شر سے محفوظ رکھے۔"
برقعی اکثر جیل کے عہدیداروں سے اپنا جرم پوچھتے تو یہی جواب ملتا کہ ہمیں آپ کا جرم معلوم نہیں اوپر سے آرڈر ہے ،تہران سے۔
No comments:
Post a Comment