• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    ہلاکو اور مغلوں سے امامیہ راضی لیکن خلفاء سے ناراض،آیت اللہ برقعی کی تحریر



    سید عبدالحسین شرف الدین نے کتاب "المراجعات " مذہبی تعصب میں ڈوب کر ہی لکھی ہے ،اس لیے کہ حقیقت میں دین اسلام صرف ایک دین ہی ہےاور اس میں فرقون کی گنجائش ہی نہیں ہے۔کیا آئمہ اہل بیت کے فرقے تھے یا نہیں تھے؟ وہ مسلمان تھے یا نہین تھے؟کیا آئمہ اہل بیت جعفری فرقہ سے تعلق رکھتے تھے،یا امامی یا صوفی یا باطنی یا ناؤسی یا فطحی یا نصیری یا ۔۔۔ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے؟؟کیونکہ ان میں سے ہر فرقہ خود کو اہل بیت ع کے حقیقی پیروکار کہتے ہیں۔بقول شاعر
    وكل يدعي وصلا بليلى
    وليلى لا تقر لهم بذاكا
     یعنی سبھی عاشق یہاں وصلِ لیلیٰ کے دعویدار ہیں۔ مگر لیلیٰ ہے جو ان میں سے کسی ایک کی بھی توثیق نہیں فرما رہی!

    حیرت ہے کہ شیعہ امامیہ والے مغل اور ھلاکو کی حکومت سے راضی تھے اور ان کے ساتھ یاری اور وفاداری کی۔لیکن یہ لوگ خلفائے راشدین کی خلافت سے راضی نہیں ہیں۔مثلا خواجہ نصیر الدین طوسی جو امامیہ کے سب سے برے اور برجستہ ترین عالم تھے،وہ اور ان کے شاگرد علامہ حلی اور ان کے پیروکاروں نے مغل بادشاہوں کے خدمت گزار اور ان کے مددگار رہے۔لیکن دوسری طرف یہی لوگ رسول اللہ ص کے جانشینوں کے متعلق برا کہتے ہیں اور مہاجرین و انصار کے مرتد ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔اور آئمہ ع سے ایسی روایات نقل کرتے ہیں کہ رسول ص کی وفات کے بعد سوائے تین لوگوں کے سب مرتد ہوگئے۔حالانکہ اللہ نے سینکڑون آیات میں اصحاب پیغمبر کی مدح کی ہے اور فرمایا:
    أُولئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمانَ وَ أَيَّدَهُمْ بِرُوح مِنْهُ
    المجادلہ 22
     کیا نعوذ باللہ عترت مدھ اصحاب میں نازل شدہ ان آیاتوں سے بے خبر تھے؟کیا قرآن نے جن مہاجرین و انصار کی تعریف کی ہے کیا عترت ان کی تکفیر کرتے تھے؟؟؟
    یقینا علمائے امامیہ صفوی بادشاہوں  کو جو کہ استعماری عیسائیوں کے دوست تھے ان کو خلفائے راشدین سے افضل مانتے ہیں۔حالانکہ تاریخ کے حوالے سے اگر ہم دیکھیں(تاریخ کے کئی حوالے آیت اللہ برقعی نے حاشیہ میں محمد جواد مغنیہ کی الشیعہ فی المیزان کے تین صفحات اور تاریخ ایران کے صفحہ ا54 سے نقل کیے ہیں) تو شاہ عباس صفوی ،اور طہماسب امامیہ علماء(جن میں محقق کرکی،میرداماد،شیخ حسین عبدالصمد،شیخ بہائی،مجلسی کبیر،ملا صدرا،محقق اردبیلی،ملا عبداللہ یزدی،فیض کاشانی۔۔۔۔۔۔) کے ہمراہ عیسائیوں کی مدد کرتے رہے اور ان سے اسلحہ خریدتے تھے۔اور مسلمانوں کے درمیان جنگ برپا کرتے رہے۔علمائے شیعہ نہ صرف اس جنگ و قتل میں شاہد یا دیکھ رہے تھے،بلکہ انہون نے صفوی بادشاہوں کی تعریف اور سنیوں کی تکفیر کی۔ بلکہ بحار الانوار جو خرافات سے بھری ہوئی روایات پر مبنی ہے اس میں صاحب کتاب نے جلد 25 صفحہ 243 پر صفوی حکومت کے حق میں دعا لکھی :شیدھا اللہ و وصلھا بدولۃ القائم
     اللہ ان کو بلندی عطا کرے اور قائم کی حکومت سے متصل کرے۔
    اس لیے کہ صفویوں نے پزارون کی تعداد میں مسلمانون کو قتل کیا اور دین خدا کو کمزور اور جبر و زور کے ذریعے مذھب امامیہ کو لوگوں پر مسلط کیا
    آیت اللہ برقعی،کتاب نقد المراجعات

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel