• Breaking News

    Ayatollah Al Udhma Sayyed AbolFadhl Borqei Qomi A great Islamic Scholar

    Ayatollah Sayyed AbulFadhl Borqei was a great Islamic Scholar who sought reforms in Shiaism and later he called himself a Muslim only,no shia or sunni labels or tags.

    Ayatollah Borqei Qomi

    A great Islamic Scholar from Iran

    Monday, 27 February 2017

    خمینی کا نام نہاد انقلابی نظام اور ظلم و ستم آنکھوں دیکھا حال آیت اللہ برقعی کی آپ بیتی




    اپنی کتاب سوانح ایام میں  آیت اللہ العظمی برقعی لکھتے ہیں:


    "اسلامی جمهوریہ کے ناہل عہدیداران
     ھمارے ایک دوست جو کہ علانیہ اور برملا مجھ سے اظہار ارادت کرتا تھا آغا سید خسروبشارتی تھا جو کہ کن و سلقان کے درمان راستی میں جزء حومہ تھران کے پاس بغیر کسی جرم اور عدالت کے گولیون کے بوچھاڑ کر کے شہید کر دیے گیے۔رحمت اللہ علیہ ورضوانہ،انہوں نے تو ایک بار میری دفاع میں ایک مقالہ میں حجت الاسلام متانت صاھب کو جواب دیا تھا جو کہ روزنامہ اطلاعات شمارہ نمبر 13مورخہ 18۔4 ،59 کو شائع ہوا تھا"۔
    یاد رہے ان کو پاسداران انقلاب اٹھا کر تفتیش کے بہانے لے کر گئے تھے اور بعد میں اس مقام سے ان کی لاش ملی تھی،جس پر حقوق انسانی کی تنظیمون نے کافی احتجاج کیا،اور آج بھی ان کا نام بے گناہ قتل شدگان کی فہرست مین ملتا ہے۔
    جب آیت اللہ برقعی نے دیکھا کہ جس اسلامی نظام کی خاطر ہم نے جدوجہد کی اس کا بدترین نتیجہ ہمارے سامنے ہے،اور اسلام کے نام پر ہر جگہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔مردون اور عورتون کو جیلون میں بلا جرم سزائیں دی جا رہی ہین یا ان کے ساتھ زیادتیان ہو رہی ہیں تو ان کو اس پر بہت افسوس ہوا،اور فرمایا کہ اب مین اللہ سے دعا کرتا ہون کہ مولویون کو کبھی حکومت نہ دے ،کیونکہ یہ کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں اور لوگوں کے تمام حقوق چھین لیتے ہیں۔

    "دولت اسلامی( مملکت اسلامی) نے عوام کے ایک گروه کو حزب جمهوری اسلامی اور شعار «حزب فقط حزب الله» کے نام پر اکسایا هے که هر روز خیابانوں میں یا دانشگاهوں میں لوگوں پر یہ لوگ حمله کرتے هیں اور ڈنڈے و چماق( آگ جلانے کی چیز) بلکه قصابوں کی طرح چھڑیاں لے کر اور هر مرتبه سینکڑوں لوگوں کو زخمی‌و مجروح اور قتل کرچکے هیں اور کسی شخص کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجازت نهیں.
    میں خود جن ایام میں مشهد میں تھا,میں نے دیکھا که کچھ لوگ جن میں زیاده نادان لوگ( یعنی نوجوان) تھے که ڈنڈے و چماق لے کر پھرتے تھے اور دو نفر آخوند( مولوی) سیاه عمامه پہنے ان لوگوں(نو جوانوں) کے ساتھ چلتے تھے اور نعره لگاتے

    حزب فقط حزب الله
    رهبر فقط روح الله
    اور اس طرح اس حالت میں دانشگاه مشھد کی طرف یہ لوگ چلے گئے اور درجنوں لوگوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا اور پانچ لوگون کو قتل بھی کردیا.اور هر روز مجھے خبر ملتی تھی که فلاں فلاں شھروں میں اس قسم کے لوگوں کو(انقلابی نوجوانوں کے ہاتھوں) مارنے پیٹنے اور قتل کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں.بهت سارے کتب خانوں کو انهوں نے جلا دئے اور بهت سارے کتاب فروشوں کی دکانوں کے سٹال پر حملے کیے اور ان کی کتابوں. کو خیابانوں اور نہروں میں بہا دئے.اور کتب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے.
    اور اگر کوئی کوئی عدالت یا قاضی کے پاس پہنچتے تو وهاں بیٹھا قاضی یا وکیل اس(مشتبہ شخص) کی مخالفت ہی کرتا.اسلام میں تو قاضی کو بے طرف ہونا چاہیے لیکن جمھوری اسلامی کے یه قاضی خصومت اور ضد کے مجرم ہیں،یه کیسے قوانین بنے ہیں؟میری عمر کے ستر سالوں میں مجھے ایسا طریقه اور قانون دیکھنے کو نہیں ملا,اور اب میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں که میں خوار ہوں اور خانه نشین ہوں اور میں نفوذ کلام نہیں رکھتا.که میری وجه سے بھی کسی پر ظلم هوتا اور الله کے حضور بازپرس مجھ سے هوتا(جس سے اللہ نے مجھے بچا لیا)
    جمهوری اسلامی کے نام پر ایسے کام کرتے ہیں کہ اسلام کے موافق نہیں,اور عالم و جاہل ان کے اسلام کے مقررات سے بےخبر اور ناآگاه ہیں.اور جب تک لوگ ناآگاه ہیں ایسا ہوتا رہے گا.اور بلکہ لوگ ایسی صورت دیکھ کر کمیونسٹ اور لبرل ازم یا لائیسم اور بے دینی اختیار کرتے ہیں.خواه آج کے زمانہ حال کا ہو یا گزشته زمانے میں کچھ لوگوں نے چرب زبانی سے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہے.اور جس وضع کو خود چاہا لوگوں پر تھونپ دیا.چنانچہ اس سال کردستان اور خوزستان میں جوانوں کو دشمن سے جهاد کے نام پر اکسایا اور، ھر روز اطراف مملکت میں زد و خورد و کشت و کشتار هے. اورحزب حاکم (یعنی خمینی کی طرفدار لوگوں) کا ہر مرنے والا شخص ان کے مطابق شہید ہے اور جار و جنجال کے ساتھ ریڈیو پر اور محافل میں اس کو شهید کها جاتا هے ، حالانکه ان کے خیال میں ملت ایران(یعنی خمینی انقلاب) کا ہر مخالف شخص خدا و رسول کے ضد میں ماراگیا ہے اور دوزخی ہے.گویا ان کے ہاتھ میں بہشت اور جہنم کی چابی ہے اور یه قسیم الجنۀ و النار(جنت اور دوزخ بانٹنے والے لوگ) هے.
    بندر لنگہ میں سینکڑوں لوگ سنی و شیعه کے نام پر قتل هوئے ، گنبد قابوس میں لوگوں کو قتل عام کیا گیا ,اورکردستان میں ہر روز جنگ و قتال برپا ہے، اور یہی صورتحال یہ جمهوری اسلامی‌ دوسرے ممالک میں صادر کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ نہ ان کے پاس مساوات ہے نہ عدالت نام کی چیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سال ۱۳۵۹ میں , خیابان آزادی میں اپنے گھر میں کوچه بامدادان کے ایک کمرے میں تھا روز جمعه نماز پڑھاتا، مولویوں کی حکومت جس نے آزادی و عدالت کے بہت نعرے لگائے تھے ، پاسدار ان کے مسلح گروه کو مینی بس میں میرے پاس بھیجا,اور میرے گھر کو خراب کیا اور مجھے دیگر بهت سے لوگوں کے همراه پکڑ کر جیل میں ایک مہینه کیلے ڈال دیا.
     اور رہائی کے بعد جب میں نے یه دیکھا که میرے دوستوں کی جان خطرے میں ہے ،میں نے نماز جمعه پڑھانا ترک کردیا,اور میرے گھر کو ان عدالت کے نام نہاد دعویداروں نے غارت کیا اور اس کو روندا اور کئی سال هوگئے واپس نہیں کیا.انهوں نے جتنا یه کر سکتے تھے تہمت اور اذیت اور آزار مجھ کو پہنچانے سے دریغ نہیں کیا.اور مسلسل مجھے زندان میں ڈالتے رہے,اور تفتیش کیلے لے جاتے رہے اور جو جو اذیتیں اور آزار مجھے دے سکتے تھے دیے.
    .....
     ایک جوان فاضل و محقق جو احمد مفتی زاده کے نام سے ہے,اہل علم ہے اور کردستان( اھل سنت تھے ) کے ایک دور کے ایک علاقے کے جوانوں کو انہوں نے جمع کیا هے.اور ان کو اصل دین اور قرآن سکھاتا ہے.کردستان کے ناآگاه لوگوں اور ایران کے دولت خرافی نے یه کام کیا کہ ان کو کردستان سے بے دخل کیا اور ہجرت پر مجبور کیا.حالانکہ وه خود کردستانی هیں اور اب 6 سال ہوگئے که مولویوں کی اس حکومت (یعنی خمینی حکومت)نے اس کو ناحق اور ظالمانہ طور پر جیل میں ڈالا ہوا هے.اور اسی حکومت کے منصوب کرده قاضی نے ان کو 5 سال کے قید کی سزا سنائی هے.ھرچند یه قاضی کا حکم ظالمانہ اور شریعت کے خلاف تھا.....اور بعد میں اپنی مرضی سے اس سے زیاده عرصه اس فاضل کو قید رکھا۔"
    آیت اللہ سید ابوالفضل برقعی قمی،کتاب سوانح ایام
    یاد رہے کردستان کے عالم مفتی زادہ جو اہل سنت سے اہل قرآن ہوئے مکتب قرآن کے بانی تھے اور خمینی حکومت کے دور میں جیل میں ہی فوت ہوگئے۔

    No comments:

    Post a Comment

    Fashion

    Beauty

    Travel