صفحہ 181 پر اپنی کتاب درسی از ولایت میں آیت اللہ برقعی نے اپنے مخالفین کی جانب سے"حسبنا کتاب اللہ کہنا کافی نہیں ہے اور قرآں ہدایت کے لیے کافی نہیں "کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
"اس کا جواب یہ ہے کہ خود اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کو اپنے بندون کے لیے ھادی قرار دیا ہےاور فرمایا:
أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
(رمضان کا مہینہ ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے
سورہ بقرہ 185
اور دوسری جگہ فرمایا:
إِنَّ هَـذَا الْقُرْآنَ يِهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ
یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے
سورہ اسراء 9
یہ قرآن یقینا کافی ہے اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں کیونکہ خود اللہ فرماتا ہے
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ
کیا اُن (لوگوں) کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔
سورہ عنکبوت 51
کیا تم لوگ اللہ کے کلام کے منکر ہو؟ اگر اس کا منکر ہو تو یقینا اس کا منکر کافر ہے۔یہ لوگ لوگوں کو قرآن سے دور کرنا چاہتے ہیں اور خرافات میں غرق رکھنا چاہتے ہیں۔"
آیت اللہ ابوالفضل برقعی قمی،کتاب درسی از ولایت

No comments:
Post a Comment